Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
332 - 691
صدیق اکبر کاطرز خلافت نہایت شاندارتھا
مؤرخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے زمام خلافت ہاتھ میں لینے کے بعد کبھی کسی قسم کا ہنگامہ مسلمانوں میں خلافت کے مسئلے پر پیدا نہیں ہوا۔ بنو ہاشم اور انصاردونوں نے کبھی ان کی مخالفت نہیں کی اور ان کا کوئی فرد مسلح ہو کر یاباغی کی صورت میں ان کے سامنے نہیں آیا اور کسی نے ان کے خلاف اعلان جنگ نہیں کیا۔ یہ بنو ہاشم کے لیے بھی بہت بڑے کمال کی دلیل ہے اور اس سے یہ بھی اندازہ ہوتاہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا طرز خلافت نہایت شاندار اور مثالی نوعیت کا تھا جو بے شمار اچھائیوں کواپنے اندر سموئے ہوئے تھا۔
ایک حیرت انگیز بات
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!عموماً دیکھنے میں آیاہے کہ جب کسی منصب وغیرہ کا معاملہ ہو اور دو گروہوں میں تضاد ہو جائے اور ان میں سے کوئی ایک برتری حاصل کرلے تودوسراگروہ اسے دل میں بٹھا لیتاہے اور بعدمیں جب کبھی اسے موقع ملتاہے یاتووہ اپنی ذلت کا بدلہ لیتاہے یااس منصب کو دوبارہ حاصل کرنے کی تگ ودو میں لگا رہتاہے ۔لیکن قربان جائیے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی مدنی سوچ پر کہ ان کی حیات طیبہ کا ایک ایک لمحہ صرف اور صرف   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے دین متین کی سربلندی اور اپنے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تعظیم وتوقیر میں گزار دیا۔یہی وجہ ہے کہ انصار نے سقیفہ بنی ساعدہ میں تو بیعت صدیق اکبر سے قبل کچھ تحفظات بیان کئے تھے لیکن بیعت کرنے کے بعد انہوں نے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔ انصار کے چھوٹے بڑے کسی فرد نے کبھی کوئی بات نہیں کی۔ یقینا ًیہ مسئلہ انہوں نے قطعی طور پر دل سے نکال دیا تھا۔ چنانچہ حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیدنا عثمان غنی اورحضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمکی بیعت کے موقع پر اس معاملے میں کوئی بات ان کی طرف سے سننے میں نہ آئی۔ انصار نے حصول خلافت کے سلسلے میں کسی سے کبھی بات نہیں کی۔حالانکہ اس نازک وقت میں اگران کے دل میں