Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
331 - 691
 توبار بار سر اٹھائے گا۔‘‘	   (شعب الایمان، فصل فی ما ورد من التشدید، الحدیث: ۷۴۷۲،  ج۶، ص۵۱، الریاض النضرۃ، ج۱، ص ۲۵۳)
بیعت صدیق اکبراوروالدصدیق اکبر
حضرت سیدناسعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  سے روایت ہےکہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وفات ظاہری پرپورا مکہ مکرمہ دہل گیا اور ہرطرف کہرام مچ گیا۔جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے والد گرامی حضرت سیدنا ابوقحافہ عثمان بن عامر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے شور سنا تو پوچھا:’’ یہ کیا ہے؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بتایا گیا کہ دو جہاں کے تاجور، سلطانِ بحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  دنیا سے وصال ظاہری فرما گئے ہیں۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرمانےلگے: ’’یہ توبہت ہی بڑا حادثہ ہے۔‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دریافت کیاکہ’’اب خلیفہ کون بنا ہے ؟‘‘ لوگوں نے بتایا کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیٹے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ارشاد فرمایا: ’’بنو عبدمناف اور بنو مغیرہ اِس خلافت پر رضامند ہیں؟‘‘عرض کیاگیا:’’جی ہاں۔‘‘ فرمایا: ’’لَا مَانِعَ لِمَا اَعْطٰی اللہُ وَلَا مُعْطِیْ لِمَا اَعْطٰی یعنی   اللہ عَزَّ وَجَلَّ جسے کچھ عطا کرے اسے کوئی نہیں روک سکتا، اور جسے نہ دے اسے کوئی دلوا نہیں سکتا۔‘‘	    (اسد الغابۃ،عبد اللہ بن عثمان،خلافتہ ،ج۳،ص ۳۳۹)
بیعت صدیق اکبر کب ہوئی؟
علامہ عبد الرحمن ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی اپنی کتاب صفۃ الصفوہمیں حضرت علامہ ابو عبد اللہ محمد بن عمر بن واقد سهمي اسلمي واقدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکے حوالے سے نقل فرماتے ہیں کہ ’’حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا حضرت سیدنا عبد اللہ بن عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیدنا سعید بن مسیب رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   وغیرہم سے روایت ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال مبارکہ کے دن بارہ(۱۲)ربیع الاول بروز پیر ۱۱گیارہ سن ہجری میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی گئی۔‘‘		(صفۃ الصفوۃ، ذکر خلافۃ ابی بکر، ج۱،ص۱۳۲)