قرآن پاک نازل کیااور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سنت کے طریقے بتائے ۔ اے لوگو! اس بات کو سمجھ لو کہ سب سے بڑی دانائی تقویٰ ہے اور سب سے بڑاعجز فسق وفجور ہے۔‘‘ (الصواعق المحرقۃ، الباب الاول، ص۱۲)
نصیحتوں کےمدنی پھول
حضرت رافع الخیر طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ میں مقام عزاۃ میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر تھا، میں نےعرض کی: ’’آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمجھےنصیحت فرمائیں۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے دو بار فرمایا : ’’اللہ عَزَّ وَجَلَّ تم پر رحم کرے اور برکت دے۔ فرض نمازیں بروقت ادا کیا کرو۔زکوٰۃ خوشی سے دیا کرو۔ رمضان کے روزے رکھو اوربیت اللہ کا حج کرو۔ اور ہاں!کبھی حاکم نہ بنو۔‘‘ میں نے عرض کیا:’’حضور!آج کل تو حکمران ہی امت کے بہترین لوگ ہیں۔‘‘ ارشاد فرمایا:’’ آج کل اَمارت یعنی حکمرانی آسان ہے ،لیکن مجھے یہ ڈر ہے کہ آئندہ زمانے میں فتوحات کی زیادتی کے سبب حکومتیں بھی زیادہ ہوں گی اور اس طرح ممکن ہے کہ نا اہل حکمران بھی آئیں گے۔ جب کہ کل بروز قیامت حاکم کا حساب لمبا ہوگا اور عذاب زیادہ جبکہ غیر حاکم کا حساب کم اور عذاب ہلکا۔ اس لیے کہ حکمران ہی سے زیادہ ظلم سرزد ہوتا ہے اور ظالم حاکم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عہد کو توڑ دیتا ہے۔انہی حکمرانوں میں سے (عدل وانصاف کرنے والے)بعض اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مقرب بھی ہوتے ہیں اور بعض(ظلم وستم کے سبب)مردودِ بارگاہِ خدا بھی۔خدا کی قسم! تم میں سے جب کوئی شخص ہمسائے کی بکری یا اونٹ قبضہ میں کرلے تو بڑا خوش ہوتا ہے کہ میں نے ہمسائے کی بکری یا اونٹ ہتھیالیا ہے، حالانکہ ایسے ہمسایوں پر عذاب نازل کرنا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا زیادہ بڑا حق ہے۔‘‘حضرت رافع الخیر طائی رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے پوچھا کہ:’’حضور!آپ کو کیوں اور کن حالات میں امیر بنایا گیا ؟‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انصار کی ساری گفتگو اور حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے خطاب کی تفصیلات بیان کیں اورفرمایا:’’ ہم نے ان حالات میں بیعت قبول کی کیونکہ ہمیں خطرہ تھا کہ اس معاملے کی وجہ سے فتنہ پیدا نہ ہوجائے کیونکہ یہ ایک دفعہ پیدا ہوگیا