دوسرا خطبہ،خلافت سے عدم دلچسپی کا اظہار
حضرت سیدنا حسن رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیعت کے بعد نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے منبر والے مقام سے نیچے کھڑے ہوئے اور فرمایا:’’میں بہت ضعیف آدمی ہوں، تم کسی مضبوط اور توانا آدمی کو میری جگہ خلیفہ مقرر کرلو۔‘‘لوگ یہ سن کر مسکرائے اورعرض گزار ہوئے: ’’ہم ایسا ہرگز نہیں کرسکتے، آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو ہر جگہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رفاقت کی سعادت ملی،آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی اس منصب کے سب سےزیادہ حق دار ہیں۔‘‘ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےاُن سے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم میری یہ بات نہیں مانتے ہو تو پھر کم از کم بہتر طریقے سے میری اطاعت اور معاونت کرو، اور یہ بات بھی ذہن میں رکھو کہ میں بھی ایک بشر ہوں،میرے ساتھ بھی ایک شیطان ہے جو مجھے بہکانے کی کوشش کرتارہتا ہے۔ جب تم مجھے غصے کی حالت میں دیکھوتو مجھ سےدور رہو ۔‘‘ (الریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۵۲)
تیسرا خطبہ،خالق کی نافرمانی میں کسی کی اتباع نہیں
حضرت عیسیٰ بن عطیہ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے مسند خلافت سنبھالنے کے بعد ایک طویل خطبہ دیا اور ارشاد فرمایا:’’اے لوگو! اگر تم مجھے سیدھی راہ پر پاؤ تو میری اتباع کرو ورنہ مجھ سے دور رہو۔اگر میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی فرمانبرداری کروں تو تم بھی میری فرما نبرداری کرو ۔ اگر تم مجھے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی نافرمانی کرتے پاؤ تو ہرگزمیری اتباع نہ کرنا۔‘‘ (المعجم الاوسط، من اسمہ منتصر، الحدیث: ۸۵۹۷، ج۶، ص۲۲۷ )
چوتھا خطبہ، سب سے بڑی دانائی
ایک روایت میں یوں ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کو خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’مجھے آپ لوگوں کے معاملات کا والی بنا دیا گیا ہے،مگرمیں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں لیکن اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے