Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
328 - 691
پکڑ کر فرمارہے ہیں:’’ اسی نے مجھے مصائب میں مبتلا کیا ہے۔‘‘پھر حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا: ’’اے عمر!مجھے تمہاری اَمارت کی کوئی حاجت نہیں۔‘‘حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’اللہکی قسم !ہم نہ آپ کی بیعت توڑیں گے نہ ایسا مطالبہ کریں گے ۔‘‘ (الریاض النضرۃ،ج۱ ،ص۵۱)
بیعت کی ذمہ داری سے آزادی
حضرت سیدنا ابن جحاف داودبن عوف برجمی تمیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیسے روایت ہے کہ بیعت عامہ کے بعدحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا دروازہ تین(۳)دن تک بند رہا۔آپ روزانہ تشریف لاتے اور لوگوں کو مخاطب کر کے یہ ارشاد فرماتے:’’ میں آپ لوگوں کی بیعت کی ذمہ داری سے خود کو آزاد کرتا ہوں، آپ لوگ جس کی چاہیں بیعت کرلیں۔‘‘ لیکن حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم جوابا ارشاد فرماتے: ’’ہم نہ آپ کو آپ کی بیعت سے آزاد کریں گے اور نہ ہی خود ایسا مطالبہ کریں گے۔ جب رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو آگے بڑھایا ہے تو اب آپ کوکون پیچھے کر سکتا ہے۔ 
(کنزالعمال، کتاب الخلافۃ مع الامارۃ، الحدیث: ۱۴۱۵۰، ج۳، الجزء:۵، ص۲۶۱ تا۲۶۲)
سات دن تک بیعت توڑنے کا کہتے رہے
حضرت سیدنا امام جعفر صادق رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اپنے والد حضرت سیدنا امام باقر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے روایت کر تے ہیں کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیعت ہوجانے کے بعد سات دن تک لوگوں کو بیعت توڑنے کاکہتے رہے۔ساتویں دن حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم  تشریف لائے اورعرض گزار ہوئے کہ’’نہ ہم آپ سے کی گئی بیعت توڑیں گے اور نہ ہی ایسا مطالبہ کریں گے، اگر ہم آپ کو اہل نہ سمجھتے تو کبھی بیعت نہ کرتے۔‘‘  (الریاض النضرۃ ،ج۱،ص۲۵۲)