ان کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت نہیں ۔ اب اٹھو اور نماز پڑھو! اللہ عَزَّ وَجَلَّ آپ سب لوگوں پر رحم فرمائے۔‘‘
(الریاض النضرۃ، ج۱ص۲۳۹تا۲۴۰)
کوئی اس منصب کوسنبھال لے
حضرت سیدنا ابراہیم بن عبد الرحمن بن عوف رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں سے بیعت لے لی تو ان سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’اے لوگو ! خدا کی قسم مجھے زندگی بھر کسی دن یا رات اَمارت کی خواہش نہیں رہی، نہ کبھی خفیہ اور نہ ہی کبھی علانیہ ۔اور نہ ہی میں نے اس کی اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے طلب کی ہے ۔میں تو ایک فتنہ سے ڈر گیا تھا ورنہ مجھے اَمارت یعنی حکمرانی لے کر آرام نہیں ملابلکہ مجھ پر ایک عظیم ذمہ داری آن پڑی ہے جو میری برداشت سے زیادہ ہے مگر یہ کہ خدا مجھے اس کو نبھانے کی توفیق دے ۔ میں تو آج بھی چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں سے کوئی اس منصب کو سنبھال لے۔‘‘ مہاجرین نے آپ کی ان تمام باتوں کی تصدیق کی اورحضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم اورحضرت سیدنا زبیر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو جب معلوم ہوا تو انہوں نے فرمایا: ’’ہماراا علان ہے کہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعدآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی سب سے زیادہ خلافت کے حق دار ہیں، نبی ٔکریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یار غار اور ثانی اثنین ہیں ہمیں آپ کا شرف معلوم ہے۔ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے خود آپ کو ہمارا امام بنایا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے دنیا سے پردہ فرمانے تک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی ہمارے امام تھے۔‘‘ (المستدرک علی الصحیحین،کتاب معرفۃ الصحابۃ، خطبۃ ابی بکر واعتذارہ، الحدیث :۴۴۷۹،ج ۴، ص۱۰، السنن الکبرٰی للبیھقی،کتاب قتال اھل البغی،باب ماجاء فی تنبیہ الامام،الحدیث: ۱۶۵۸۷، ج۸، ص۲۶۳ )
مجھے امارت کی کوئی چاہت نہیں
حضرت سیدنا زید بن اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک بار حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بارگاہ میں حاضر ہوئےکیا دیکھتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنی زبان