Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
326 - 691
 وَسَلَّمنے اس(یعنی خلافت ابو بکر صدیق)کی طرف اشارہ فرمایاہے۔  اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہارے درمیان نورِ ہدایت رکھ دیا ہے جس سے تم ہدایت پاتے ہو۔اگر اسے مضبوطی سے پکڑے رکھو گے تو ہدایت یافتہ رہو گے۔ اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے تمہاری حکومت کا معاملہ ایک ایسے شخص کے ہاتھ میں دیا ہے، جونبیٔ کریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےجانثار ساتھی، ثانی اثنین اور سب سے بڑھ کرخلافت کے حق دار ہیں۔ لہٰذااٹھو اور ان کی بیعت کرو۔‘‘ وہاں موجود سب لوگوں نے بیعت کی۔سقیفہ کی بیعت کے بعد یہ پہلی بیعت عامہ تھی۔  (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ،اخبارہ صلی اللہ علیہ وسلم ،عن مناقب الصحابۃ۔۔۔الخ، ذکر الخبر المدحض۔۔۔الخ،الجزء التاسع، الحدیث:۶۷۳۶، ج۶، ص۱۵، الریاض النضرۃ، ج۱، ص۲۳۹تا۲۴۰)
بعدبیعت خطبات  صدیق اکبر
خلیفہ بننےکےبعد پہلا خطبہ
بیعت عامہ کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اٹھ کر سب سے پہلا خطبہ دیااور  اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثنا کے بعد ارشادفرمایا:’’اے لوگو! مجھے آپ لوگوں کا امیر و والی بنایا گیا ہے، حالانکہ میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں۔ اگر میں بہتر کام کروں تو میری مدد کرو اور اگرکہیں غلطی کروں تو میری اصلاح کرو۔ یاد رکھو !اَلصِّدْقُ اَمَانَۃٌ وَالْکِذْبُ خِیَانَۃٌ یعنی سچ بولنا امانت ہے اور جھوٹ بولنا خیانت۔یاد رکھو!تم میں سے کوئی شخص کتنا ہی کمزور ہو لیکن جب تک   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی مدد سے میں اسے اس کا حق نہ دلادوں وہ میرے سامنے بہت طاقتور ہےاور تم میں سے کوئی شخص کتنا ہی طاقتور ہو اور اس نے کسی کا حق دینا ہو تو اس سے حق لینے تک وہ میرے نزدیک بہت کمزور ہے(یعنی میرے ہوتے ہوئے کسی کمزور شخص کی کوئی بھی حق تلفی نہیں ہوسکتی اور کوئی طاقت ور شخص اپنی طاقت کے بل بوتے پر کسی کمزور کا حق تلف نہیں کرسکتا۔) جہاد چھوڑ دینے والی قوم پر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ذلت مسلط کردیتا ہےاور بے حیا قوم پر مصائب نازل فرماتا ہے۔ جب تک میں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اوررسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اطاعت کرتارہوں تم میری اطاعت کرتے رہنااور جب میں