Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
325 - 691
 بعدحضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ منبر پر کھڑے ہوئے اور ارشاد فرمایا:’’ کوئی شخص اس دھوکہ میں نہ رہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت عجلت یعنی جلدی میں کرلی گئی تھی۔ سن لو بے شک آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت میںکوئی شر نہ تھا اور آج تم میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسا کوئی شخص نہیں جس کے لیے لوگ اپنی گردنیں جھکانے پر تیار ہوں، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال کے بعد ساری اُمت میں سب سے بہتر آپ ہی تھے۔ ‘‘	
(صحیح البخاری، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت، الحدیث :۶۸۳۰، ج ۴، ص ۳۴۳ تا ۳۴۷ مختصرا)
معاملات خلافت کے زیادہ حقدار
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو میں نے خطبہ دیتے ہوئے یہ فرماتے سناکہ ’’حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ معاملات خلافت کے زیادہ حقدارہیں لہٰذا آگے بڑھو اور ان کی بیعت کرو۔‘‘چنانچہ وہیں اسی مجلس میں مسلمانوں کی ایک جماعت نے ان کے ہاتھ پر بیعت کرلی ۔اور بیعت عامہ کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمنبر پر تشریف فرماہوئے۔	
(صحیح البخاری، کتاب الاحکام، باب الاستخلاف، الحدیث: ۷۲۱۹، ج۴، ص۴۸۰ مختصرا)
صدیق اکبر کی بیعت عامہ
سیدنا فاروق اعظم کا ایک اور خطبہ
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے جس روزسقیفہ بنی ساعدہ میںحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی گئی، حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک خطبہ دیا   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمد و ثنا کے بعد ارشادفرمایا: ’’اے لوگو! میں نے کل تمہیں ایک بات کہی تھی جو نہ میں نے کتاب اللہسے لی ہے اور نہ نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے کسی عہد اور وصیت سے۔ البتہ میں نے دیکھا کہ رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ