وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تشریف لے جانے کے بعد میں ایسا کروں گا؟خدا کی پناہ۔‘‘ ( الریاض النضرۃ،ج۱،ص۲۳۰)
خلافت کی وصیت نہیں کی
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم کاارشاد گرامی ہے: ’’اگر سیِّدُالْمُبَلِّغِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھےخلافت کی وصیت کی ہوتی تو میں بنو تیم کے ان بھائیوں یعنی حضرت سیدنا ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاورحضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو منبر رسول پر کھڑا نہ ہونے دیتا اور ان سے دست بدست جنگ کرتا اگرچہ میرے پاس ایک چادر کے سوا کچھ نہ ہوتا۔‘‘ (تاریخ مدینۃ دمشق ،ج ۴۲،ص ۴۴۲)
خلافت صدیق سے استحکام اسلام
ایک بارحضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمنے فرمایا: ’’سرکارِ والا تَبار، ہم بے کسوں کے مددگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خلافت کا پروانہ نہیں دیا۔ہم اسے خود اپنے طور پر طلب کررہے تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کو معلوم ہے کہ ہمارا یہ مطالبہ درست تھا یا غلط ۔ درست تھا تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی طرف سے ہوگا، نہیں تو ہماری طرف سے ہے۔ اس کے بعدحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے خلافت سنبھالی اور دین کو استحکام بخشا۔پھرحضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بھی ایسے ہی کیا، حتی کہ دین زمین پر اس طرح اطمینان کے ساتھ ٹھہر گیا جیسے اونٹ زمین پر اطمینان سے گردن ڈال دیتا ہے۔‘‘
(مسند امام احمد،ومن مسند علی بن ابی طالب ،الحدیث:۹۲۱،ج۱،ص۲۴۳،تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰،ص۲۹۱)
سیدنا علی المرتضی شیر خدا کی بیعت
لوگوں نےحضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمسے حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی گزارش کی، کیونکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات وہ بابرکت ذات تھی جس کا تعلق اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب،