انصار بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپر ٹوٹ پڑے اور وہاں پرموجودتقریباً سب ہی لوگوں نے بیعت کرلی۔‘‘
(صحیح البخاری ،کتاب المحاربین من اھل الکفار،رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت، الحدیث :۶۸۳۰ج ۴، ص۳۴۶ ملتقطا)
انصاری قبیلےکےسردار کی بیعت
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیان کے بعد سب سے پہلے حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے بیعت کی اس کے بعد مہاجرین نے بیعت کی اور پھر انصارمیں سےسب سے پہلے انصاری قبیلہ خزرج کے سردار حضرت سیدنا بشیر بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے کی، اس کے بعد وہاں موجود تمام انصار نے بھی بیعت کرلی۔ (الریاض النضرۃ،ج۱، ص۲۴۱)
سب سے زیادہ متفقہ بات
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ’’خدا کی قسم! ہم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت سے زیادہ متفقہ بات کوئی نہ دیکھی۔‘‘ (الصواعق المحرقۃ، الباب الاول، ص۱۱)
فاتح خیبر اور بیعتِ صدیق اکبر
شیر خدا کادعویٔ خلافت سے انکار
حضرت فطر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ایک شیخ سے روایت کرتے ہیں کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال پر ایک شخص نے حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے عرض کی: ’’اے علی! باہر نکل کر لوگوں میں اعلان کردو کہ نبیٔ ،کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمیں خلافت دے دی ہے، اس طرح حکومت و خلافت کبھی کسی اور کو نہیں مل سکے گی۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’ میں نے جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات طیبہ میں کوئی غلط بات آپ کی طرف منسوب نہیں کی تھی تو اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ