Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
321 - 691
اَمِیْرٌ وَمِنْکُمْ اَمِیْرٌ ایک امیر ہم میں سے اور ایک امیر تم میں سے ہوگا۔‘‘ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہان کے پاس تشریف لے گئے اور فرمایا:’’اے  انصار! کیا تم نہیں جانتے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو لوگوں کی امامت کرانے کا حکم دیا تھا۔اب بتاؤ تو سہی! کہ تم میں سے کون ہے جس کا دل یہ پسند کرتاہو کہ وہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے آگے کھڑا ہو؟‘‘ انصار نے کہا: ’’خدا کی پناہ! ہماری کیا جرأت کہ ہم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے آگے کھڑے ہوں۔‘‘ (السنن الکبری للنسائی، کتاب الامامۃ، باب ذکر الامامۃ والجماعۃ، الحدیث: ۸۵۳،  ج۱،  ص۲۷۹، المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، خلافۃ ابی بکر، الحدیث: ۴۴۸۰،  ج۴، ص۱۱)
دو طرح کی بیعت کی گئی
حضرت سیدناصدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی دو(۲) طرح بیعت کی گئی:
(۱) بیعت خاصہ (۲)  بیعت عامہ۔بیعت خاصہ سقیفہ بنی ساعدہ میں موجود مخصوص لوگوں نے کی تھی جن میں سب سے پہلے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہاتھ پر بیعت کی اور خود ہی اسے بیان بھی فرمایا۔چنانچہ،
صدیق اکبر کی بیعت خاصہ
سیدنا فاروق اعظم کی بیعت
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ’’ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے بیان کے بعد اس سے پہلے کہ لوگ انتشار کا شکار ہوتے،میں نےحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کی: ’’اپنا ہاتھ بڑھائیں۔‘‘انہوں نے ہاتھ بڑھایا میں نے بیعت کی، مجھے دیکھ کر سب مہاجرین نے بیعت کرلی اور پھر