رہے ہوں۔‘‘ (مسند امام احمد ، مسند عمر بن خطاب ، الحدیث: ۲۳۳، ج۱، ص۸۳)
ایک نیام میں ایک ساتھ دو تلواریں نہیں رہ سکتیں
جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسقیفہ بنی ساعدہ میں تشریف لے گئے اور وہاں موجود بعض لوگوں نے مختلف اعتراضات وتحفظات پیش کیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کا بہترین جواب ارشاد فرمایا۔ چنانچہ،
اصحاب صفہ میں سےایک صحابی حضرت سیدنا سالم بن عبیدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ انصارنے جب یہ بات کہی کہ’’دوامیر بنالیے جائیں ایک مہاجرین کا اور ایک انصار کا۔‘‘تو حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے اس بات کا بطریق احسن ایک ہی جملے میںجواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ’’جس طرح ایک نیام میں دو تلواریں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں اسی طرح مسلمانوں کے دو خلیفہ ایک ساتھ نہیں ہوسکتے۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ تھام کرارشاد فرمایا:’’جو تین خصلتیں اِنہیں حاصل ہیں وہ کسی اور کو حاصل نہیں۔(۱) اِذْ هُمَا فِی الْغَارِ (۲)اِذْ یَقُوْلُ لِصَاحِبِهٖ (۳)اِنَّ اللّٰهَ مَعَنَا ۔یہ تین خصوصیات (یعنی یار غار ہونا، رسول اللہ کا صاحب ہونا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی معیت کا ہونا)کس میں ہیں؟‘‘ پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کرلی اور لوگوں سے فرمایا:’’تم بھی ان کی بیعت کرو۔‘‘تو تمام لوگوں نے بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کرلی۔ (السنن الکبری للنسائی،کتاب المناقب،باب فضل ابی بکر صدیق، الحدیث: ۸۱۰۹،ج ۵، ص ۳۷،اسد الغابۃ ۃ، عبد اللہ بن عثمان خلافتہ، ج۳،ص۳۳۸)
ایک امیر انصارسے، ایک مہاجرین سے
امام نسائی ، ابویعلی اور امام حاکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہِم نے حضر ت سیدنا عبد اللہ بن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی ہے کہ جب شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا وصال مبارک ہواتو انصار نے کہا:’’مِنَّا