صدیق اکبرکے بیان پر سب کا اطمینان
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اس تقریر پر سب نے اطمینان کا اظہار کیا اور ان کی اس تجویز کو کہ ’’اَمارت مہاجرین کی اور وَزارت انصار کی ہوگی‘‘ نہایت مناسب قرار دیا۔ دونوں کے حقوق آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے نہایت ہی خوبصورت الفاظ اور نہایت ہی عمدہ اسلوب میں بیان فرمادیے تھے۔
(صحیح البخاری ،کتاب المحاربین،رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت، الحدیث :۶۸۳۰ج ۴، ص۳۴۶ تا ۳۴۷ مختصرا)
بیعت صدیق اکبر اور سیدنا عمرفاروق اعظم
حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت میں بہت اہم کردار ادا کیا۔اولاً آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کی طرف میلان ظاہر کیا لیکن انہوں نے منع فرمادیا اور حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیعت کی جانب توجہ مبذول کروائی۔چنانچہ،
آپ اِس امت کے امین ہیں
سیدنااِمام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنی مسند میں روایت کرتے ہیں کہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا:اپنا ہاتھ آگے لائیے تاکہ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بیعت کروں۔کیونکہ میں نے خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو آپ کے بارے میں یہ فرماتے سنا ہے کہ ’’ اَنْتَ اَمِیْنُ ھٰذِہِ الْاُمَّۃِآپ اس امت کے امین ہیں۔‘‘حضرت سیدنا ابوعبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے فرمایا:’’میں اس ہستی یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کیسے آگے بڑھ سکتاہوں جسے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمارا امام بنایا ہواور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے انتقال تک وہ ہمارے امام ہی