خدا ئے پاک کی رحمت سے انسانوں میں ہر اک سے
فُزوں تر بعد از کُل انبیا صدّیقِ اکبر ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
لقب ’’حَلِیْم ‘‘( بُرْدبَار)
صدیق اکبر آسمانوں میں حلیم
حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ایک دفعہ سیدنا جبریل امین اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اورایک کونے میں بیٹھ گئے، کافی دیر تک وہیں بیٹھے رہے اچانک وہاں سے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہگزرے توجبریل عَلَیْہِ السَّلَام نے عرض کیا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!یہ ابو قحافہ کے بیٹے ہیں۔‘‘ آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا:’’اے جبریل! کیا آپ لوگ بھی انہیں پہچانتے ہو؟‘‘ عرض کیا: ’’اس رب عَزَّ وَجَلَّ کی قسم جس نے آپ کو مبعوث فرمایا ہے! ابوبکر زمین کی نسبت آسمانوں میں زیادہ مشہور ہیں، اور آسمانوں میں ان کا نام ’’حلیم‘‘ہے۔‘‘ (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۸۲)
لقب ’’اَوَّاہٌ‘‘(کثیرُ الدعا ، عاجزی کرنے والے)
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ نہایت ہی عاجزی کرنے والے اور کثیر الدعا تھے، آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہسے کئی مخصوص دعائیں بھی منقول ہیں، حضرت سیدنا ابراہیم نخعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں کہ’’ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی انہیں صفات کی بنا پر آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکا لقب ’’اَوَّاہٌ‘‘کثیر الدعا ، عاجزی کرنے والاپڑگیا۔‘‘ (ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء، ج۳، ص۸۵)