الرَّحْمٰن ارشاد فرماتے ہیں: ’’صدیقیت ایک مرتبہ تلو نبوت ہے کہ اس کے اور نبوت کے بیچ میں کوئی مرتبہ نہیں مگر ایک مقام ادق واخفی کہ نصیبہ حضرت صدیق اکبر اکرم واتقی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہہے تو اجناس وانواع واصناف فضائل وکمالات وبلندی درجات میں خصائص و ملزومات نبوت کے سوا صدیقین ہر عطیہ بہیہ کے لائق واہل ہیں اگرچہ باہم ان میں تفاوت و تفاضل کثیرو وافر ہو۔‘‘ (فتاوی رضویہ، ج۱۵، ص۶۷۸)
صدیق اکبر کسے کہتے ہیں؟
آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے ہرمعاملے میں صداقت کا عملی مظاہرہ فرمایاحتی کہ واقعہ معراج اور آسمانی خبروں وغیرہ جیسے معاملات کہ جن کو اس وقت کسی کی عقل نےتسلیم نہیں کیاان میں بھی آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے فوراً تصدیق فرمائی۔سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تمام معاملات میں جیسی تصدیق آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے کی ویسی کسی نے نہ کی اس لیے آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکو’’ صدیق اکبر‘‘ کہا جاتاہے۔چنانچہ اعلی حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانۂ شمع رسالت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ، جلد۱۵، ص۶۸۰پرارشاد فرماتے ہیں:’’سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صدیق اکبر ہیں اور سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ صدیق اصغر، صدیق اکبر کا مقام اعلی صدیقیت سے بلند و بالا ہے۔‘‘ نسیم الریاض شرح شفاء امام قاضی عیاض میں ہے:’’سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکی تخصیص اس لئے کہ وہ صدیق اکبر ہیں جو تمام لوگوں میں آگے ہیں کیونکہ انہوں نے جو حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی تصدیق کی وہ کسی کو حاصل نہیں اور یونہی سیدنا علی المرتضی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کا نام صدیق اصغر ہے جو ہرگز کفر سے ملتبس نہ ہوئے اور نہ ہی انہوں نے غیراللہ کو سجدہ کیا باوجود یکہ وہ نابالغ تھے۔‘‘
(نسیم الریاض فی شرح الشفا، القسم الاول، فی ثناء اللہ۔۔۔الخ، الفصل الاول، ج۱، ص۲۳۴)
سبھی علمائے اُمّت کے، امام و پیشوا ہیں آپ
بِلاشک پیشوائے اَصفیا صدّیق اکبر ہیں