بیعت کے لیے اپنا ہاتھ بڑھائیے
حضرت سیدنا محمدرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا:’’آپ اپنا ہاتھ آگے لائیےتاکہ میں آپ کی بیعت کروں۔‘‘حضرت سیدنا عمرفاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’آپ مجھ سے افضل ہیں۔‘‘ آپ نے جواب دیا:’’بھائی عمر!آپ مجھ سے زیادہ توانا اور طاقت ور ہیں۔ ‘‘اور باربار یہی فرماتے رہے توحضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی: ’’آپ کی فضیلت کے ساتھ ساتھ میری قوت بھی آپ کے ساتھ ہے۔‘‘پھر حضرت عمر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ کی بیعت کرلی۔‘‘
(تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۲۷۴،الصواعق المحرقۃ، الباب الاول،ص۱۲)
حضرت سیدنا سعدبن عبادہ کی تائید
حضرت امام احمد بن حنبل رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی کتاب ’’مسند امام احمد بن حنبل ‘‘میں حضرت سیدنا حمید بن عبد الرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے حدیث نقل کی ہے کہ سقیفہ بنی ساعدہ کے اس اجتماع میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انصار کے فضائل بیان کرنے کے بعد حضرت سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے ارشاد فرمایا:’’اے سعد ! آپ کو یاد ہے کہ حضورنبی ٔرحمت، شفیعِ اُمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کی موجودگی میں ارشاد فرمایا تھا کہ قُرَيْشٌ وُلَاةُ هَذَا الْأَمْرِ خلافت کے والی قریش ہیں ۔ فَبَرُّ النَّاسِ تَبَعٌ لِبَرِّهِمْ وَفَاجِرُهُمْ تَبَعٌ لِفَاجِرِهِمْ نیک لوگ ان کے نیکوں کے تابع ہوں گے اور فاجر لوگ ان کے فاجروں کے تابع ہوں گے۔‘‘حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی تصدیق اور تائید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’صَدَقْتَ جی ہاں!واقعی رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایسا ہی ارشاد فرمایاتھا۔ نَحْنُ الْوُزَرَاءُ وَأَنْتُمُ الْأُمَرَاءُ یقیناً ًہم انصار لوگ وزیر ہیں اور آپ لوگ امیر۔‘‘ (مسند امام احمد ، مسند ابی بکر الصدیق، الحدیث: ۱۸، ج۱، ص۲۳ ملتقطا)