Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
317 - 691
تھیں جنہیں بیان کرنا بہت مشکل ہے، اگر فقط کسی کو ان سزاؤں کے بارے میں تھوڑا سا بھی بتا دیاجائے تو اس کے رونگٹے کھڑے ہوجائیں۔ لیکن   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے ان مظلومین کواس قدر ہمت وقوت عطا فرمائی کہ وہ کم تعداد اور دشمنوں کی کثرت کے باوجود کسی قسم کے خوف و اضطراب میں مبتلا نہ ہوئے وہ عرب کی سرزمین میں اوّلین لوگ ہیں جنہیں   اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ایمان لانے اور رب عَزَّ وَجَلَّ کے عبادت گزار بندے بننے کی توفیق رفیق ملی۔ وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اولین مُحِبّ اور آپ کے سب سے پہلے تعلق دار ہیں ، لہٰذا یہ کہنا بالکل بجا ہوگا کہ خلافت کے مستحق وہی لوگ ہیں اور اس مسئلے کو صرف وہی لوگ قابلِ اختلاف قرار دے سکتےہیں جوان کو نہیں سمجھتے یا مسئلے کے تمام پہلوؤں پر پوری نگاہ نہیں رکھتے۔ اے انصار کی جماعت!آپ وہ لوگ ہیں جن کی دینی فضیلت اور قبول اسلام میں سبقت سے کوئی شخص انکار نہیں کرسکتا،   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ کو دین کا مبلغ اور اس کے برگزیدہ رسول کا مُعاون بناکر عظمت عطا فرمائی ۔ رسولِ خدا نے آپ کے شہر میں ہجرت کی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زیادہ تر ازواج مطہرات آپ لوگوں کے خاندان سے ہیں ۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  کی بہت بڑی تعداد کا تعلق انصار سے ہے۔ بے شک مہاجرین اولین کے بعد آپ ہی کا مرتبہ ہے۔ اس لیے مہاجرین قریش کے حصے میں اَمارت آئے گی اور آپ کے حصے میں وَزارت ۔ کوئی فیصلہ آپ کے مشورے کے بغیر نہیں کیا جائے گا اور کوئی کام آپ کی شرکت کے بغیر انجام نہیں پائے گا۔جیسا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فرمایا کرتے تھے۔پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکا ہاتھ پکڑ کر ارشادفرمایا:’’ میں آپ لوگوں کے سامنے دو قریشی ہستیوںکو پیش کرتا ہوں آپ لوگ دونوںمیں سے جس کی چاہو بیعت کرسکتے ہو۔‘‘حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں کہ ’’خدا کی قسم! اُس دن بغیر کسی گناہ کے میری گردن کا اڑا دیا جانا مجھے اس سے کہیں بہتر نظر آتا تھا کہ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہوتے ہوئے میں لوگوں پر خلیفہ وحاکم بنوں۔‘‘
(صحیح البخاری ،کتاب المحاربین،رجم الحبلی من الزنا اذا احصنت، الحدیث :۶۸۳۰ج ۴، ص۳۴۳ تا ۳۴۷)