Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
316 - 691
ایسے امر پر بضد ہوجس سے سخت انتشار کا اندیشہ ہو، سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ مخاطب سے اس طرح بات کی جائے کہ اس کے احساسات بھی مجروح نہ ہوں اور آپ اس تک اپنی بات پہنچانے میں بھی کامیاب ہو جائیں۔حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اسی بہترین انداز گفتگو کو اختیار فرمایااور انصار کے سامنے ایک بیان کیا جس نے انصار کے دل جیت لیے ۔ چنانچہ،
سیدنا صدیق اکبر کا بیان
حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی حمدو ثنا کے بعد دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کا ذکر فرمایااور ارشاد فرمایا:’’آپ لوگوں نے جو اپنی فضیلت بیان کی ہے آپ اسی فضیلت کے اہل ہیں، لیکن عرب کے دیگر قبائل خاندانِ قریش کے علاوہ یہ حکومت کسی اور کے لیے بہتر نہیں سمجھتے کیونکہ ان کا نسب اور مقام سب سے بہتر ہے۔‘‘
صدیق اکبرکے بیان کی تفصیل
 آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے صرف دو (۲)جملوں میں جو حکمت بھری گفتگو فرمائی اس کا مفہوم کچھ یوں ہے کہ حُسنِ اَخلاق کے پیکر، محبوبِ رَبِّ اکبر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی بعثت کے وقت عربوں کے لیے اپنے آباء واجداد کا دین ترک کرنا نہایت ہی مشکل تھا، وہ اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے تھے کہ اپنے قدیم مذہب سے دست بردار ہوجائیں۔   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے اس وقت پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قوم کے مہاجرین اولین کے ذہنوں میں وسعت پیدا فرمائی اور انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی تصدیق کرنے کی توفیق عطا فرمائی۔انہیں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے فرامین پر ایمان لانے ، آپ کا پورا پورا ساتھ دینے اور اپنی قوم کے بے پناہ مظالم نہایت ہی صبر کے ساتھ برداشت کرنے کی ہمت عطا فرمائی۔انہیں ہر قسم کے ظلم وستم کا نشانہ بنایاجاتا تھا اور انہیں اس قسم کی سزائیں دی جاتی