Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
315 - 691
بیان ہے کہ ہم لوگ حضرت سیدناسہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے یہاں مہمان ہوئے تو انہوں نے وہی پیالہ ہمارے واسطے نکالا اور برکت حاصل کرنے کے لئے ہم لوگوں نے اسی پیالے میں پانی پیا۔ اس پیالہ کو اموی خلیفہ ٔعادل حضرت سیدناعمر بن عبدالعزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے مانگ کر اپنے پاس رکھ لیا۔ 
(صحیح مسلم ،کتاب الاشربۃ ، باب اباحۃ النبیذ الخ، الحدیث: ۲۰۰۷، ص۱۱۱۲، عمدۃ القاری، کتاب المحاربین، باب رجم الحبلی من الزنی،تحت الحدیث:۶۸۳۰،  ج۳۴، ص۲۵۶)
تینوں اکابرصحابہ کی سقیفہ بنو ساعدہ آمد
جیسے ہی یہ تینوں اکابر ہستیاںسقیفہ بنی ساعدہ پہنچیں، تو دیکھا کہ حضرت سیدنا سعد بن عبادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چادر اوڑھے وہاں تشریف فرماہیں ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاس وقت بیمار تھے۔انصار آپ تینوں کو دیکھ کر بہت متحیر ہوئے اور خاموش ہوگئے ۔تھوڑی دیر بعد ان میں سے ایک شخص نے اٹھ کر انصار کی تعریف وتوصیف شروع کردی، جس کا لب لباب یہی تھا کہ خلافت انصار کا حق ہے اور یہ حق انصار کو ہی ملنا چاہیے۔جب وہ شخص خاموش ہوا تو حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اس کا جواب دینا چاہا لیکن حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے انہیں منع فرما دیا۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اندیشہ تھا کہ وہ اس مجلس میں کوئی تلخ گفتگو نہ کریں کیونکہ یہ موقع سختی کا نہیں بلکہ نرم کلامی اور تحمل مزاجی کا تھا اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ چونکہ اوّل اسلام لانے والے تھے ، رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے یار غار اور قریب ترین مشیر تھےاور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنے جسم کے ٹکڑے کی طرح آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکاخیال رکھتے تھے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی بہت ہی تعظیم کیا کرتے تھےاس لیے فوراً بیٹھ گئے ۔
گفتگو کرنے کا بہترین طریقہ
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مخاطب سے گفتگو کرنے کےبہت سے طریقے ہیں خصوصاً اس وقت جبکہ وہ کسی