Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
314 - 691
سقیفہ بنو ساعدہ میں انصار کا مشورہ
مہاجرین مسلمان تو سب کے سب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت پر راضی تھے، لیکن مسئلہ خلافت پر مزید غور وفکر کے لیے انصار کے بعض لوگوں کا مشورہ سقیفہ بنی ساعدہ میں شروع ہوگیاتاکہ وہ اپنے قبیلے کی سب سے بڑی معتمد شخصیت حضرت سیدنا سعد بن عبادہ انصاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ بنانے کے متعلق کوئی فیصلہ کرسکیں ۔یہ مسلمانوں کے لیے بہت نازک وقت تھاکیونکہ حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، حضرت سیدنا ابو عبیدہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاور متعدد اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  اس وقت مسجد نبوی میں بیٹھے تھے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے اس بہت بڑے صدمے کے متعلق مصروف گفتگو تھے۔جب انہیں انصار کے سقیفہ بنی ساعدہ کے مشورے کے متعلق علم ہوا تو حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیا: اے ابوبکر! ہمیں اپنے انصار بھائیوںکے پاس جانا چاہیے۔تاکہ وہ جلد بازی میں کوئی ایسا فیصلہ نہ کر بیٹھیں جو مسلمانوں کے حق میں ٹھیک ثابت نہ ہو۔ چنانچہ یہ تینوں اکابر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  سقیفہ بنی ساعدہ میں ہونے والے انصار کے مشورہ کی طرف تشریف لے گئے۔
سقیفہ بنو ساعدہ کیا ہے؟
اس سے مراد قبیلہ بنو ساعدہ کی وہ جگہ ہے جس پر بیٹھ کر وہ لوگ فیصلے وغیرہ کیا کرتے اور دیگر مختلف امور پر تبادلہ خیا ل بھی کیا کرتے تھےاوریہ وہ مبارک جگہ ہے جسے سرکار مدینہ، راحت قلب وسینہ صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی صحبت کا شرف حاصل ہواہے۔چنانچہ ایک دن اسی جگہ پر حضور اکرم، نور مجسم، شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَاپنے اصحاب کے ساتھ رونق افروز تھے۔ آپ نے حضرت سیدناسہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے فرمایا کہ ہمیں پانی پلاؤ۔ چنانچہ حضرت سیدنا سہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ایک پیالہ میں آپ کو پانی پلایا۔ حضرت ابوحازم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کا