کی لیکن انصار نے آپ کی تصدیق کی٭رسول اللہکی قوم نے آپ کا ساتھ نہ دیا لیکن انہوں نے ساتھ دیااور مدد کی ٭ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماور دیگر مسلمانوں کا جب کفار کی شرارت سے باہر جانا ہوا تو انصار نے ہی ان کو پناہ دی ٭ مکۂ مکرمہ کے مسلمان جب ہجرت کرکے مدینۂ منورہ آئے تھے تو اکثر بے سروسامان تھے اس وقت انصار نے ہی اپنے مال کے ذریعے مسلمانوں کی مالی معاونت کی٭کفارمکہ کی اسلام دشمنی اوران کی طرف سے دی جانے والی تکالیف کے سبب جب مسلمانوں کے دل ٹوٹے ہوئے تھے تو اس وقت انصار نے ہی ان کی ڈھارس بندھائی اور انہیں حوصلہ دیا۔وغیرہ وغیرہ
فضیلت انصار بزبان حبیب پروردگار
انصار کی فضیلت بیان کرتے ہوئے خود اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا:’’ لَوْلَا الْهِجْرَةُ لَكُنْتُ امْرَأً مِنَ الْاَنْصَارِ اگر میں ہجرت نہ کرتاتو انصار میں سے ہوتااور لَوْ سَلَكَ النَّاسُ وَادِيًا وَشِعْبًا لَسَلَكْتُ وَادِيَ الْاَ نْصَارِوَشِعْبَهَا اگر ایک وادی اور گھاٹی میں دیگر لوگ ہوں اور دوسری میں انصار ہوں تومیں انصار کی وادی اور گھاٹی میں جاؤں گا۔ اَلْاَنْصَارُ شِعَارٌ وَالنَّاسُ دِثَارٌاور انصارمیرے نزدیک ان حقیقی کپڑوں کی مانند ہیں جوجسم کے ساتھ ملے ہوتے ہیں جبکہ دیگر لوگ ان کپڑوں کے اوپر پہنے جانے والے اضافی کپڑوں کی طرح ہیں۔
(صحیح البخاری، کتاب المغازی، غزوۃ الطائف، الحدیث: ۴۳۳۰، ج۳، ص۱۱۶)
مہاجرین وانصارمیں اختلاف کی حقیقی وجہ
انصار ومہاجرین دونوں میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان تھے،اس لیے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانکے پاکیزہ نفوس کو سامنے رکھتے ہوئے محتاط قول یہی ہے کہ اس اختلاف کی حقیقی وجہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نیابت جیسی عظیم نعمت کا حصول تھا نہ کہ دنیوی زیب وزینت جیسی خسیس شے کی طرف میلان۔