ہوجاتی ہے جب اس میں ایسی غیر معمولی باتیں ہوں جو اسے دوسروں سے ممتاز کرتی ہوں۔
انصار ومہاجرین میں اختلاف اور اس کی وجہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے بعد خلافت وبیعت کے معاملے میں انصار ومہاجرین دونوںمیں کچھ اختلافات پیدا ہوگئے۔کیونکہ مسلمان ہمیشہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی رہنمائی میں زندگی گزارتے آئے تھے اور اب جبکہ پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے ظاہری پردہ فرما لیا تھا تو مسلمانوں کے لیے یہ بہت ہی آزمائش کا وقت تھا، اِس لیے تمام مسلمان جلد از جلد کسی کو خلیفہ منتخب کرنا چاہتے تھے تاکہ آگے اسی کی رہنمائی میں سارے معاملات بطریق احسن نمٹائے جا سکیں۔ مہاجرین وانصار دونوں کا موقف یہی تھا کہ خلیفہ ان ہی میں سے ہوکیونکہ دونوں میں کئی ایسی باتیں تھیں جنہیں امتیازی حیثیت حاصل تھی۔چنانچہ،
مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز
مہاجرین مسلمانوں کا امتیاز یہ تھا کہ٭انہوں نے سب سےپہلے اسلام قبول کیا٭ان کی سب سے بڑی سعادت یہ تھی کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اہل بیت اور دیگر رشتہ دار بھی ان ہی میں تھے٭انہوں نے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا اُس وقت ساتھ دیا جب کفار ہر طرح سے آپ کے مخالف ہوچکے تھے٭انصار کوبھی ان ہی مہاجرین کے سبب اسلام کی دولت نصیب ہوئی٭ انصار کو اسلام کی تعلیمات دینے والے بھی یہی مہاجرین تھے٭انصار کی آپس کی دشمنیاں ان ہی کے سبب ختم ہوئیں٭اگر خلیفہ کوئی اور ہوا تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی قوم کسی غیر کے تحت ہوجائے گی جو کسی طرح بھی روا نہیں ۔وغیرہ وغیرہ
انصارمسلمانوں کا امتیاز
جبکہ انصار مسلمانوں کا امتیاز یہ تھا کہ ٭رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اپنی قوم نے آپ کی تکذیب