بیعت صدیق اکبر
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مذکورہ آیات واحادیث اور مختلف اقوال سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال ظاہری کے بعد اگر کوئی شخصیت خلافت ونیابت کی مستحق تھی تو وہ صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی ذات مبارکہ تھی۔
مہاجرین وانصارکی فضیلت
کفار مکہ کے ظلم وستم سے تنگ آکر جن مسلمانو ں نے مدینہ کی طرف ہجرت کی انہیں ’’مہاجرین‘‘ کہا جاتا ہے اور مدینہ میں رہنے والے وہ مسلمان جنہوں نے ان مہاجرین مسلمانوں کی مدد کی انہیں ’’انصار‘‘ کہا جاتاہے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےان کی فضیلت، ان سب سے اپنی رضا مندی اور اعلی انعام واکرام کو اپنے پاک کلام قرآن مجید میں خود بیان فرمایاہے۔ چنانچہ پارہ۱۱، سورۃ التوبہ، آیت ۱۰۰ میں ہے: (وَ السّٰبِقُوْنَ الْاَوَّلُوْنَ مِنَ الْمُهٰجِرِیْنَ وَ الْاَنْصَارِ وَ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُمْ بِاِحْسَانٍۙ-رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰))ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور سب میں اگلے پہلے مہاجر اور انصار اور جو بھلائی کے ساتھ ان کے پَیرو(پیروی کرنے والے) ہوئے اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی اور ان کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘
طبعی وفطری میلان
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!یہ بات مسلمہ ہے کہ فطری طور پر جب کسی اَمارت، منصب یا عہدے کی بات آجائے تو انسان کی طبیعت اس بات کی طرف مائل ہوتی ہے کہ مجھے یہ اعزاز ملے، یا میرے گھر والوں ، رشتہ داروں میں سے کسی کو مل جائے یا کم ازکم میرے قبیلے ہی کے کسی فرد کو مل جائے، خصوصاً یہ بات ذہنی طور پر اس وقت زیادہ پختہ