خلافت صدیق اکبراور حضرت سیدناحسن بصری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ :
حضرت سیدنا محمد بن زبیر رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا عمر بن عبد العزیز رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے مجھے حضرت سیدنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیکی خدمت میں بھیجا تاکہ میں آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے چند چیزوں کے بارے میں سوال کروں۔میں نے آپ سے گزارش کی کہ لوگوں کے اس اختلاف کے بارے میں مجھے تسلی بخش خواب دیں کہ :’’کیا حضور نبیٔ کریم رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ بنایا تھا؟‘‘آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ یہ سن کر سیدھے ہوکر بیٹھ گئے اور ارشاد فرمایا: ’’اس میں کوئی شک والی بات ہے کیا؟تیرے والد کا سایہ تجھ پر نہ رہے ، قسم ہے اس ذات برحق کی جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں!آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ مقرر فرمایا تھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی تو سب سے زیادہ علم والے اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی معرفت رکھنے والے اور اس ذات برحق سے خوب ڈرنے والے تھے، اگر آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمانہیں خلافت کا حکم ارشاد نہ فرماتے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپراس خلافت میں موت آنا بہت شدید ہوتا ۔‘‘ (اسد الغابۃ، عبد اللہ بن عثمان ابوبکر، خلافتہ، ج۳، ص۳۳۶، تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۲۹۷)
خلافت صدیق اکبر اور امام شافعی َعَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی :
امام بیہقی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِینے امام زعفرانی قُدِّسَ سِرُّہُ النّوْرَانِی سے روایت کی ہے کہ میں نے حضرت سیدنا امام شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْکَافِی کو یہ فرماتے سنا کہ’’لوگوں نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خلافت پر اجماع کرلیا ہے اس کی تفصیل یوں ہے کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات کے بعد صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان پریشان ہوگئے تاہم انہوں نے آسمان کی چھت کے نیچے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے زیادہ بہتر کوئی ہستی نہ پائی لہٰذا انہوں نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو اپنی گردنوں کا مالک بنادیا۔‘‘ (معرفۃ السنن والآثار للبیھقی، ما یستدل بہ علی صحۃ اعتقاد الشافعی ، ج۱، ص۱۱۴)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد