Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
309 - 691
 آخر میں بیٹھے ہوئے ایک شخص کو آنکھ کا اشارہ کیا اور فرمایا: ’’تم سابقہ کتابوں میں کیا پاتے ہو؟‘‘ اس شخص نے عرض کیا: ’’حضور نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے خلیفہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہوں گے۔‘‘
(تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۲۹۶، الخصائص الکبری، اختصاصہ بذکر اصحابہ فی الکتب السابقۃ، ج۱، ص۵۲)
 خلافت صدیق اکبراور حضرت سیدناعبداللہ  بن مسعودرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  :
امام حاکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے حضرت سیدنا عبد اللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت کی ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ مسلمان جسے بہتر سمجھیں وہ   اللہ عَزَّ وَجَلَّکے نزدیک بہتر ہے اور جسے مسلمان برا سمجھیں وہ اللہکے نزدیک برا ہے۔ تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو خلیفہ بنانے کا مشورہ دیا۔
(المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، یتجلی اللہ لعبادہ عامۃ ولابی بکر خاصۃ، الحدیث:۴۵۲۲، ج۴، ص۲۸)
خلافت صدیق اکبراور حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ:
امام حاکم رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نقل فرماتے ہیں کہ حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے خلافت صدیق اکبر کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا:’’ غور سےسن لو! ہم نے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکوہی خلافت کا اہل سمجھا ہے۔‘‘ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ،  امر النبی لابی بکر بامامۃ الناس فی الصلوۃ، الحدیث:۴۵۱۹، ج۴، ص۲۷)
 خلافت صدیق اکبراور حضرت سیدنامعاویہ بن قرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ  :
حضرت سیدنامعاویہ بن قرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے خلیفہ رسول ہونے میں شک نہیں کرتے تھے ۔ وہ تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو ’’یاخلیفۃ الرسول‘‘ کہہ کر پکارتے تھے۔ وہ خطا اور گمراہی پرجمع نہیں ہوسکتے تھے۔ ‘‘  (تاریخ مدینۃ دمشق، ج۳۰، ص۲۹۷)