Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
30 - 691
وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مقام پر صدیق قیام کریں گے کہ وہاں صدیق سے اعلی کوئی نہیں جو انہیں اس سے روکے۔ وہ اس وقت کے صادق و حکیم ہیں، اور جو ان کے سوا ہیں سب ان کے زیر حکم۔ ‘‘ (الفتوحات المکیۃ،الباب الثالث والسبعون،ج۳،ص۴۴،فتاوی رضویہ، ج۱۵، ص۶۸۰)
صدیق کسے کہتے ہیں؟
(۱)صدیق اسے کہتے ہیں جوزبان سے کہی ہوئی بات کو دل اور اپنے عمل سے مؤکد کر دے۔ (التعریفات،ص۹۵) حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ کو صدیق اسی لیے کہتے ہیں کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ فقط زبان کے نہیں بلکہ قلب وعمل کے بھی صدیق تھے۔
(۲)صدیق اسے بھی کہتے ہیں جوتصدیق کرنے میں مبالغہ کرے،جب اس کے سامنے کوئی چیز بیان کی جائے تواوّلا ہی اس کی تصدیق کردے، حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہبھی ایسے ہی تھے کہ اوّلا ہی سرکار صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی ہربات کی تصدیق کردیاکرتے تھے ۔
(۳)حکیم الامت مفتی احمدیار خان نعیمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں: ’’صدیق وہ کہ جیسا وہ کہہ دے بات ویسی ہی ہوجائے۔ اسی لیے تو حضرت سیدنا یوسف عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام  کے ساتھ جودوقیدی تھے ان میں سے شاہی ساقی یعنی بادشاہ کو شراب پلانے والے نے آپ عَلَیْہِ السَّلَام  کو صدیق کہا کیونکہ اس نے دیکھا کہ جو آپ نے کہا تھا وہ ہی ہوا ، عرض کیا: یُوْسُفُ اَیُّھَا الصِّدِّیْقُ۔حضرت سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے سیدنا مالک بن سنان رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہکے متعلق جو کہا تھا وہ ہی ہوا کہ وہ شہید ہونے کے بعد زندہ ہو کر آئے۔‘‘ (مرآۃ المناجیح،   ج۸،ص۱۶۲)
صدیقیت کسے کہتے ہیں؟
اعلیٰ حضرت عظیم البرکت مجدددین وملت پروانۂ شمع رسالت حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ