Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
308 - 691
صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی بارگاہ میںعرض کیا:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں اپنی ذات میں ایسی باتیں پاتاہوں جو لوگوں کی ناپسندیدہ ہیں۔‘‘آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اے ابوبکر! تمہیں ضرور لوگوں کے امور سے واسطہ پڑے گا۔‘‘آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نےپھر عرض کیا:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میں نے اپنے سینے میں دو نشان بھی دیکھے ہیں۔‘‘ارشاد فرمایا:’’(ان دونوں سے مراد خلافت کے ) دو سال ہیں۔‘‘
(الطبقات الکبری لابن سعد،  ذکر الغار والھجرۃ الی المدینہ، ج۳، ص۱۳۲، تاریخ الخلفاء،  ص۴۸)
ترتیب خلافت:
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے روایت ہے کہ نبی ٔکریم ،رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے عرض کی گئی:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد کس کو امیر بنائیں ؟‘‘تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’اگر تم ابوبکرکو امیربناؤ تو ان کو دنیا میں امین اور زاھد پاؤ گے اور آخرت میں رغبت کرنے والا۔اور اگر تم عمر کو امیر بناؤ تو ان کو قوی ، امین پاؤ گے اور وہ اللہ تعالٰیکے معاملہ میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا اندیشہ نہیں کریں گے۔ اگر تم عثمان کو امیر بناؤ تو ان کو دلیل وحجت کے ساتھ قائم پاؤ گے ۔اور اگر تم علی کو امور کا والی بناؤ تو ان کو ہادی ومہدی پاؤ گے۔‘‘  (مشکوۃ المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب العشرۃ، الفصل الثالث، الحدیث: ۶۱۳۳،  ج۳، ص۳۶۷)
مختلف اقوال اور خلافت صدیق اکبر
 خلافت صدیق اکبراور حضرت سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ:
حضرت سیدنا ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ میں حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی خدمت میں حاضر ہوا توآپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سامنے کچھ لوگ کھانا تناول کر رہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے لوگوں کے