Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
307 - 691
 کوئی اختلاف نہ کرسکے۔‘‘جب حضرت عبدالرحمن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجانےکےلئے کھڑے ہوئے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشاد فرمایا :’’اے عبد الرحمن!رہنے دو اللہ اور مسلمان ابوبکرپر اختلاف کرنے سے انکار کردیں گے۔‘‘							   (مسند امام احمد ،مسند السیدہ  عائشۃ رضی اللہ تعٰالی عنھا،الحدیث:۲۴۲۵۴، ج۹، ص ۳۰۰)
سب سے پہلے خلیفہ، صدیق اکبر:
 	حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشادفرمایا: ’’نبی ٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے دنیا سے تشریف لے جانے سے پہلے مجھ سے اس بات کا عہد لیا کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہخلیفہ ہوں پھر ان کے بعد حضرت سیدنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پھر ان کے بعد حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہپھر ان کے بعد میں۔‘‘   (الریاض النضرۃ، ج۱، ص۵۵)
ہم دنیوی امور میں صدیق اکبر سے راضی:
حضرت سیدنا علی المرتضی شیر خدا کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے ارشاد فرمایا: ’’رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو لوگوں کی امامت کا حکم دیا میں اس وقت موجود تھا مجھے کوئی بیماری بھی نہیں تھی(مگرآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مجھے امامت کا حکم نہیں دیا اس لیے )ہم دنیاوی امور کے لیے اس شخصیت کے انتخاب پر راضی ہوگئے جس پر حضور نبی ٔکریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ہمارے لیے دینی امور میں رضا مندی کا اظہار فرمادیا۔‘‘ (کنزالعمال، کتاب الفضائل، فضل الصدیق، الحدیث: ۳۵۶۶۵، ج۶،الجزء۱۲، ص۲۳۰، تاریخ مدینۃ دمشق،   ج۳۰، ص۲۶۵)
آپ کی خلافت کے دو سال:
حضرت سیدنا حسن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے رسول اللہ