Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
306 - 691
بناتے؟‘‘ فرمایا:’’حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو۔‘‘عرض کیا گیا :’’ان کے بعد کسے بناتے؟‘‘ فرمایا: ’’حضرت سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو۔‘‘  (السنن الکبری للنسائی، کتاب المناقب،ابو عبیدہ بن الجراح، الحدیث: ۸۲۰۱، ج۵، ص۵۷)
 خلافت کی وصیت:
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ انہوں نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سےاپنے درد سر کا ذکر کرتے ہوئےکہا:’’ہائے میرا سر!‘‘تورسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فرمایا :’’اے عائشہ! اگرایسا ہوکہ تمہار انتقال مجھ سے پہلے ہوجائے اور میں زندہ رہوں تو میں تمہارے لیے دعا واستغفار کروں گا۔‘‘حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَانے کہا: ’’کیا میں یہ گمان کروںکہ آپ میرے انتقال کو پسند فرمارہے ہیں تاکہ جیسے ہی میرا انتقال ہوجائے توآپ اپنی دیگر ازواج کیساتھ وقت گزاریں۔‘‘رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا :’’نہیں !میرے تو اپنے سر میںدردہورہا ہے۔ میں نے تو یہ ارادہ کیا ہے کہ ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلاکر عہدلے لوں(یعنی انہیں خلافت کی وصیت کردوں) ورنہ کہنے والےکہیں گے(کہ فلاں کو خلیفہ بنادویا فلاں کو، یا مجھے ہی بنادو) اور تمنا کرنے والے تمنا کریں گے(کہ کاش مجھے خلیفہ بنادیاجائے، تو یہ خلافت کا معاملہ شدید جھگڑے کا سبب بن جائے گا)۔ میں نے عرض کی:’’اللہ اور مسلمان حضرت ابوبکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے سوا کسی سے راضی نہ ہوں گے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتاب المرضی ، قول المریض انی وجع او واراساہ۔۔الخ، الحدیث: ۵۶۶۶، ج۴، ص۱۱)
ابو بکر کے سوا کوئی منظور نہیں:
اُمّ المؤمنین حضرت سیدتناعائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہےکہ جب اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے مرض میں اضافہ ہوا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا عبدالرحمن بن ابی بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے ارشاد فرمایا: ’’میرے پاس ہڈی یا لکڑی کی کوئی تختی لائو میں ابوبکر کے لیےایسی چیز لکھ دوں جس میں