مجھے نہ پائے تو ابوبکر کے پاس چلی جانا۔ ‘‘ (صحیح البخاری،فضائل اصحاب النبی،قو ل النبی لو کنت متخذا خلیلا، الحدیث: ۳۶۵۹، ج۲، ص۵۱۸)
خلافت کےحق دار، صدیق اکبر:
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ خَاتَمُ الْمُرْسَلِیْن،رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مرض وفات میں مجھے ارشادفرمایا: ’’ابوبکر اور ان کے بیٹے کو بلا لائوتاکہ میں انہیں پروانہ (خلافت) لکھ دوں، مجھے خو ف ہے کہ کوئی تمناکرنے والا اپنی خواہش کا اظہار کرتے ہوئے یہ نہ کہہ دےکہ میں زیادہ حقدار ہوںکیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّاور مسلمان ابوبکر کے سوا کسی سے راضی نہ ہوں گے ۔‘‘ (صحیح مسلم ،فضائل الصحابہ،من فضائل ابی بکر الصدیق،الحدیث:۲۳۸۷، ص۱۳۰۱)
اپنے صدقات کسے پیش کریں؟
حضرت سیدنا انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ بنو مصطلق نےمجھے رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے پاس بھیجا تاکہ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے دریافت کروں کہ ہم آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بعد اپنے صدقات کسے پیش کریں؟ میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں حاضر ہوا اور یہی پوچھا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’ابوبکر صدیق کو۔‘‘ (المستدرک علی الصحیحین، کتاب معرفۃ الصحابۃ، امر النبی لابی بکر بامامۃ الناس فی الصلوۃ، الحدیث:۴۵۱۷، ج۴، ص۲۶ )
رسولاللہ کسے خلیفہ منتخب فرماتے؟
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے روایت ہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے پوچھا گیا کہ اگر رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنی حیات طیبہ میں صرا حتاً کسی کو خلیفہ منتخب فرماتے تو کسے فرماتے؟آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے ارشاد فرمایا:’’میرے والد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو۔‘‘ عرض کیا گیا:’’ان کے بعدکسے