Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
300 - 691
 والے؟ کہاں ہیں وہ جو اہم کاموں میں مشغول رہتے تھے؟ کہاں ہیں جواس فانی گھر میں ہمیشہ رہنے کے دھوکے میں مبتلا تھے؟ جبکہ محبوب ِخدا، احمد مجتبیٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی اس دُنیاسے وصال فرما گئے۔
(الروض الفائق، المجلس السادس والاربعون، فی وفاۃ النبی، ص۲۶۴)
انبیا  کو  بھی  اجل  آنی  ہے، مگر  ایسی  کہ  فقط  آنی  ہے
پھر اُسی آن کے بعد ان کی حیات، مثل سابق  وہی  جسمانی ہے
رُوح  توسب  کی ہے زندہ ان کا، جسم  پُر نور  بھی  رُوحانی ہے
اوروں کی رُوح ہو کتنی ہی لطیف، اُن کے اَجسام کی کب ثانی ہے
پاؤں جس خاک پہ رکھ دیں وہ بھی، رُوح  ہے  پاک  ہے نورانی ہے
اس کی ازواج کو جائز ہے نکاح، اس  کا  ترکہ  بٹے  جو  فانی ہے
یہ  ہیں  حَیّ  ابدی  ان  کو رضاؔ، صدقِ  وعدہ  کی  قضا  مانی ہے
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
رسول اللہ  کی وفات کب ہوئی؟
اعلیٰ حضرت ،امام اہلسنت، مجدددین وملت،حضرت علامہ مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فتاوی رضویہ شریف میں ارشاد فرماتے ہیں:’’اور تحقیق یہ ہے کہ(تاریخ وفات)حقیقۃً بحسب رؤیت مکہ معظمہ ربیع الاول شریف کی تیرھویں تھی، مدینہ طیبہ میں رؤ یت نہ ہوئی لہٰذا ان کے حساب سے بارھویں ٹھہری۔وہی روات نے اپنے حساب سے روایت کی اور مشہور ومقبول جمہور ہوئی۔‘‘	(فتاوی رضویہ، ج۲۶،ص۴۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد