ظلم سے ڈرانے والے!کل بروزِ قیامت اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی بارگاہ میں سب مظلوم (بدلہ لینے کے لئے ) جمع ہوں گے۔
میرےپیچھےچلے آؤتمہارا رہنمامیں ہوں
اے میرے بھائیو! تمہیں رغبت دلائی گئی لیکن تم راغب نہ ہوئے۔ تمہیں خوف دلایاگیالیکن تم مرعوب نہ ہوئے ۔ موت نے تم سے پہلوں کوہڑپ کرکے تمہیں بیدارکیالیکن تم بیدار نہ ہوئے۔ قرآنِ حکیم نے تمہیں نصیحت کی لیکن تم برائی سے بازنہ آئے نہ نصیحت حاصل کی۔ گویا کوچ کا نقارہ بجانے والا تمہاری محافل میں ندا دے رہا ہے:’’اے سونے والو! خوابِ ِغفلت سے بیدار ہوجاؤ، تمہارا بلاواآگیاہےاورپکاررہاہے:
جنازہ آگے بڑھ کر کہہ رہا ہے اے جہاں والو!
میرے پیچھے چلے آؤ تمہارا راہنما میں ہوں
کیامحبوبِ خدا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال سے بھی تم نے کوئی عبرت نہ پکڑی؟ کیاتمہیں اس زبردست چوٹ لگنے سے بھی کوئی نصیحت نہ ملی؟ کیا آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے تشریف لے جانے سے بھی تمہیں اپنی بے ہوشی کے نشے سے اِفاقہ نہ ہوا؟ کیا تمہاری موت کے قریب ہونے نے تمہیں سوچ میں مبتلا نہ کیا؟ کیا تم نے اپنے سے پہلے شرفاء کی موت سے عبرت حاصل نہ کی؟ کیا تمہیں اپنے ماں باپ اور بچوں کو دفن کرکے بھی حسرت طاری نہ ہوئی؟تم کیسے لذّات سے لطف اندوز ہوتے ہو حالانکہ ہمارے صاحب ِ معجزات آقاصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ عبرت نشان ہے:’’اِنَّ لِلْمَوْتِ سَکَرَاتٍ یعنی موت کی سختیاں بہت ہیں۔‘‘(صحیح البخاری،کتاب المغازی،باب مرض النَّبی ووفاتہ، الحدیث: ۴۴۴۹، ج۳، ص۱۵۷)کیا تمہاری عیش وعشرت والی زندگی کی مٹھاس کڑوی نہ ہوئی؟ جب فوت ہونے والے نے موت کے وقت کہا: ’’وَاکَرْبَاہْ!ہائے! موت کی سختی۔‘‘ کیاتمہیں حضرت سیدتنافاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے دردنے نہ رُلایا؟ جب آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے اپنے والد محترم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال پرکہا: ’’وَاکَرْبِیْ بِکَرْبِکَ،یَااَبَتَاہْ!یعنی اے میرے اباجان! آپ کی تکلیف سے مجھے کتنا غم ہوا۔‘‘کہاں ہیں عقل