امامت کبری، خلافت کا بیان
اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائےغیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب مکہ سے مدینۂ منورہ ہجرت فرمائی اور وہیں مستقل رہائش کی ترکیب بنالی تو تمام انتظامی امور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمخود ہی دیکھا کرتے تھے اوریہ سلطنت مصطفےٰ نہ صرف مدینہ بلکہ پورے عرب پر محیط تھی۔ اس وقت تقریبا پورے عرب میں ہی اسلام پھیل چکاتھا اور تمام مسلمان نہایت ہی اتحاد واتفاق اور انتہائی شیرازہ بندی کے ساتھ زندگی بسر کررہے تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری سے پہلے ان کی اس مدنی زندگی سے یہودی ، عیسائی اور دوسرے غیرمسلم ہر وقت خوف زدہ رہتے تھے اور مسلمانوں سے بے حد مرعوب تھے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کےبعد اب وہ دیکھ رہے تھے کہ مسلمانوں کا کیا حال ہوگااور ان کے انتظامی امور کاسربراہ کون ہوگا؟کیا مسلمان اپنے آپ کو اس صدمے میں سنبھال پائیں گے یا نہیں؟لیکن انہیں کیا معلوم تھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے سفر وحضر کے ساتھی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمسلمانوں میں موجود ہیں اور قرآن پاک کی کئی آیات مبارکہ اورسرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی کئی احادیث طیبہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی خلافت پر دلالت کرتی ہیں ۔چنانچہ،
آیات مبارکہ اور خلافت صدیق اکبر
پہلی آیت مبارکہ:
علامہ ابن ابی حاتم عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الحَاکِم نے حضرت عبد الرحمن بن عبد الحمید عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الۡمَجِیۡد سے روایت کی ہے کہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق وعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا کی خلافت کا ذکر کتاب اللہ میں مرقوم ہے۔ پھر انہوں نے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی:( وَعَدَ اللّٰهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِی الْاَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْ۪-وَ لَیُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِیْنَهُمُ الَّذِی ارْتَضٰى لَهُمْ وَ لَیُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ