السُّيُوْف؟یعنی تلوار کو آراستہ کرنے کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں؟‘‘ فرمایا: ’’لَا بَأْسَ قَدْ حُلِىَ أَبُوْ بَكْر الصِّدِّيْقْ سَيْفَه یعنی اس میں کوئی حرج نہیں کیونکہ خود حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہنے بھی اپنی تلوار کو آراستہ کیا۔‘‘میں نے کہا: ’’آپ نے انہیں صدیق کہا؟‘‘یہ سننا تھا کہ آپ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ جلال فرماتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے اور قبلے کی طرف منہ کر کے ارشاد فرمایا:’’ ہاں! وہ صدیق ہیں، ہاں! وہ صدیق ہیں،ہاں! وہ صدیق ہیں۔ اور جو انہیں صدیق نہ کہے تو اللہ عَزَّ وَجَلَّ اس کے قول کی تصدیق نہیں فرماتانہ دنیا میں اور نہ ہی آخرت میں۔‘‘ (فضائل الصحابۃ،ومن فضائل عمر بن الخطاب من حديث أبي بكر بن مالك، الرقم: ۶۵۵، ج۱، ص۴۱۹)
امیرالمؤمنیں ہیں آپ اِمَامُ المسلمیں ہیں آپ
نبی نے جنّتی جن کو کہا صدّیقِ اکبر ہیں
سبھی اَصحاب سے بڑھ کر مقرَّب ذات ہے ان کی
رفیقِ سرورِ اَرض وسما صدیقِ اکبر ہیں
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
صادق، صدیق، صدیقیت اور صدیق اکبر
صادق کسے کہتے ہیں؟
صادق کالغوی معنی ہے ’’سچا‘‘۔اورصادق اس شخص کو کہتے ہیں جوبات جیسی ہو ویسے ہی زبان سےبیان کردے۔
(التعریفات،ص۹۵)
صدیق اکبر صادق وحکیم ہیں
شیخ اکبرحضرت سیدنا محی الدین ابن عربی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللہ الْقَوِی فرماتے ہیں:’’اگر حضور سید عالم صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس موطن میں تشریف نہ رکھتے ہوں اور سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ حاضر ہوں تو حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَا لٰی عَلَیْہِ