Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
298 - 691
 پسلیوں کے درمیان غم کی آگ روشن کردی۔ جمے ہوئے آنسوؤں کو پگھلا دیااور غم کی بجھی ہوئی آگ کو بھڑکا دیا۔
 تو اے غمزدہ! کیا حضور سید المرسلین، جنابِ رحمۃٌللعالمین صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال کے بعد بھی اس دنیامیں ہمیشہ رہنے کی طمع کرتا ہے؟ کیا تیرے لئے ان لوگوں میں عبرت نہیں جنہیں گزشتہ سالوں میں مہینوں اور زمانوں نے ختم کردیا؟کیا تیرے لئے ان لوگوں میں کوئی غوروفکر نہیں جنہیں تجھ سے پہلے موت نے پچھاڑ دیا۔ ان میں سے کوئی بوڑھا تھا تو کوئی ادھیڑعمر، کوئی نوجوان تھا تو کوئی بچہ جبکہ کوئی توپیدا ہوتے ہی راہِ آخرت پرچل پڑا۔ کیا تونے ان سے عبرت نہ پکڑی جن کوتونے قبروں میں دفن کیا جیسے دوست، احباب، بھائی اور ہمسائے وغیرہ۔ تو کب تک محض دنیوی تعلقات کی طرف متوجہ رہے گا؟ گویا تجھے موت کا یقین نہیں۔کیا موت کے متعلق تجھے مہلت نے دھوکے میں ڈالایا زمانے (کے حالات)نے تجھ سے دھوکا کیا۔ تجھے   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم!میری نصیحت قبول کر اس سے پہلے کہ تیری پیشانی عرق آلود ہو،تجھ پر حالت نزع اور غم کی کیفیت طاری ہو اور مسلسل آنسوبہائے جانے لگیں اورتجھے اندھیری قبر میں ڈال دیاجائے جس میں روشنی بالکل ظاہر نہ ہوگی۔ اس میں تو ہرجان اپنی کمائی کے بدل گروی رکھی ہوئی ہو گی۔ کیاتونےاللہ عَزَّ وَجَلَّ کی واضح آیاتِ مبارکہ نہ سنیں: (لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِیْ رَسُوْلِ اللّٰهِ اُسْوَةٌ حَسَنَةٌ) (پ۲۱، الاحزاب:۲۱) ترجمۂ کنزالایمان:بے شک تمہیں رسول اللہ  کی پیروی بہتر ہے۔ کیاتجھے اس فرمانِ الٰہی نے نہ ڈرایا؟  ( كُلُّ مَنْ عَلَیْهَا فَانٍۚۖ(۲۶))  (پ۲۷،الرحمن:۲۶)ترجمۂ کنزالایمان:زمین پرجتنے ہیں سب کو فنا ہے۔‘‘کیازمانے نے تجھے نصیحت نہ کی اور یہ خدائی فیصلہ نہ سنایا؟
( كُلُّ  نَفْسٍ   ذَآىٕقَةُ  الْمَوْتِؕ-) (پ۴،آل عمران:۱۸۵)ترجمۂ کنزالایمان: ہرجان کوموت چکھنی ہے۔جب مقامِ محمودپرفائزہونے والی ہستی صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمبھی وصال فرماگئی، جوحوضِ کوثر اورلِوَاءُ الْحَمْدکے مالک ہیں اورجن کے لئے بروزِ قیامت شفاعت کاوعدہ ہے۔ تو تُوکیا اور تیری حالت کیسی؟ اے ٹھکرائے اوردھتکارے ہوئے انسان! تیرا سارا نامۂ اعمال گناہوں سے سیاہ ہے، تیرے اعمال کو ٹھکرا دیا گیاہے۔اے فانی زمانے سے دھوکا کھانے والے اور بے قصوروں پر مظالم ڈھانے والے!   اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی قسم! ظلم بہت برا ہے۔ اے لوگو ں کو اپنے