کون اُتارے گا؟‘‘ ارشاد فرمایا:’’میرے اہلِ بیت کے قریبی لوگ اور ان کے ساتھ بے شمارملائکہ ہوں گے، تم ان کو نہ دیکھ سکو گے مگر وہ تمہیں دیکھ رہے ہوں گے۔ اُٹھواورمیری طرف سے بعد والوں کو سلام پہنچا دو۔‘‘
(احیاء علوم الدین،کتاب ذکر الموت وما بعدہ، الباب الرابع فی وفاۃ رسول اللہ۔۔۔ الخ، ج۵، ص۲۱۹)
وصال سرکار اور صحابہ کا حزن وملال
جب حضور پُرنور، شافِعِ یومُ النشور صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پردہ فرمایا تولوگ مسجدمیں جمع ہوگئے اور غم والم سے سِسکِیاں لے لے کررونے لگے اور دُنیاتاریک ہوگئی ۔ حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ پکار نے لگے: ’’وَا نَبِیَّاہْ!اے میرے جلیل القدر نبی! ‘‘حضرت سیدتنا فاطمۃ الزہراء رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاکی فریاد نکلی:’’وَا اَبَتَاہْ!اے میرے عظیم باپ!‘‘حضرت سیدناحسن و حضرت سیدنا حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَانے صدا لگائی: ’’وَاجَدَّاہْ!اے ہمارے جد ِ کریم!‘‘اور ہر مسلمان نے غم والم میں ڈوب کر کہا: ’’وَاحُزْنَاہْ! ہائے! ہمارا رنج والم!‘‘حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے وصال پُر ملال پر شدّتِ غم سے خلفائے راشدین امیر المؤمنین حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، امیر المؤمنین حضرت سیدنا عمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ، امیر المؤمنین حضرت سیدنا عثمان غنی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اور امیر المؤمنین حضرت سیدنا علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْمی آنکھوں سے سیل اَشک رواں ہوگیا۔
ایک دن مرنا ہے آخر موت ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! مبلغ اسلام حضرت علامہ شیخ شعیب حریفیش رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ارشاد فرماتے ہیں:اس دنیا میں رہنے کی طمع کیوں کی جاتی ہے؟ حالانکہ نبی مختار، محبوبِ غفارصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے بھی اس کو چھوڑ دیا، آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصالِ پُرملال پر جگر جل رہا ہے اور پلکیں آنسوؤں میں ڈوب رہی ہیں، صبر ہاتھوں سے جا رہا ہے اور آنسو بہہ رہے ہیں ، آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جدائی کی چوٹ نے تمام مصائب کو کم کر دیا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رخصت نے دوستوں کی زندگی بے کیف کردی۔ آنسوؤں کے ہار کو منتشر کردیا۔