Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
295 - 691
 ذات مراد لی ہےاور یہ سن کر زاروقطار رونے لگ گئے اور عرض کیا :’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر ہماری جانیں ، ہمارا سب کچھ قربان۔‘‘یہ تمام باتیں واضح کرتی ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی وفات ظاہری کا سب سے بڑا صدمہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو تھا اور وہ اس صدمے سے نہایت غمگین تھے لیکن اس کے باوجود آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنے جذبات کو منتشر نہ ہونے دیا ۔
صدیق اکبر کا صبروضبط 
آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفات ظاہری کے موقع پر قرآن مجید کی جو آیت مبارکہ تلاوت فرمائی اور جس انداز سے خطبہ ارشاد فرمایا وہ اس بات کی عکاسی کرتاہے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنہایت ہی صابر و ضابط تھے اور   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تکالیف وآزمائشوں کے وقت اپنے دل پر قابو پانے اور متوازن رہنے کی بے حد قوت عطا فرمائی تھی، سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات ظاہری آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی حیات کا سب سے بڑا صدمہ تھا لیکن اسے آپ نے بڑی ہمت سے برداشت کیا اور اگر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے جذبات پر قابو نہ رکھ پاتے تو اس نازک وقت میں کوئی کسی کو سمجھانے ، صبر کی تلقین کرنے والا نہ ہوتا اور ہوسکتا تھا کہ حالات بہت زیادہ نازک ہو جاتے لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے مثبت رویے سے معاملات بالکل درست ہوگئے اور مسلمانوں کو   اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے صبر وشکر اورعزم وہمت جیسی عظیم نعمتیں عطا فرمائیں۔
بارگاہ رسالت میں صدیق اکبرکی حاضری
امیرالمؤمنین حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہحاضرِ خدمت ہوئے توآپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:’’اےابوبکر!سوال کرو۔‘‘حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے پوچھا:’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!کیاموت کا وقت قریب آگیا؟‘‘ ارشادفرمایا:’’موت کا وقت قریب آگیااوربہت قریب