پاؤں پھرے گا اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا اور عنقریب اللہ شکر والوں کو صلہ دے گا۔‘‘
یہ آیت مبارکہ سن کر لوگوں کو ایسے لگا کہ گویا حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے اس آیت کوپڑھنے سے قبل وہ اسے جانتے ہی نہ تھے، یہ آیت سنتے ہی ہر شخص یہی آیت دہرانے لگا۔اور حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں کہ:’’ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے یہ آیت مبارکہ سن کرمیں حیران وششدر رہ گیا اور مجھ پر سکتہ طاری ہوگیا ، میری ٹانگوں نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور میں زمین پر گرگیا۔بہرحال آیت مبارکہ سن کر مجھے یقین ہوگیا کہ واقعی آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم دنیاسے تشریف لے جاچکے ہیں۔‘‘ (صحیح البخاری، کتاب المغازی،مرض النبی و وفاتہ،الحدیث: ۴۴۵۴، ج۳، ص ۱۵۸، عمدۃ القاری، کتاب المغازی، باب مرض النبی، تحت الحدیث:۴۴۵۳، ج۲۶، ص۳۶۷)
صدیق اکبر کےصدمے کی کیفیت
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے حبیب، ہم گنہگاروں کے طبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات ظاہری کا سب سے زیادہ غم حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو تھا کیونکہ٭آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہرسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وہ جانثار ساتھی تھے جو سب سے پہلے ایمان لائے تھے٭ہجرت کا سفر بھی ایک ساتھ ہی کیا تھا٭غارثور میں بھی اکھٹے رہے تھے ٭ اور مدینہ منورہ بھی ایک ساتھ ہی پہنچے تھے٭آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراز وہم نشین تھے ٭ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہوہ اوّلین شخصیت تھے جن کے کانوں میں پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی زبان حق ترجمان سے اسلام کی آواز سب سے پہلے پڑی تھی٭اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہی اسلام کی تبلیغ کو اپنی حیات کا جزء لازمی بنا رکھا تھا٭نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جب اپنی وفات ظاہری کا اشارہ فرمایا تھا کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے ایک بندے کو دنیاوآخرت کا اختیار دیا تو اس نے آخرت کو پسند کرلیا ، یہ اشارہ صر ف اور صرف حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہہی سمجھ سکے تھے کہ اس سے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی