صدیق اکبر کانصیحت آموز خطبہ
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان شدَّتِ غم سے نڈھال تھے اور کسی کو کچھ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ اب کیا ہوگا۔ایسے میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کے بکھرے ہوئے جذبات کو یکجا کرنے اور شیرازہ اسلام کومنتشر ہونے سے بچانے کے لیے ایک خطبہ ارشاد فرمایا، جس سے تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو ایک دلی سکون مل گیا۔ چنانچہ،
حضرت سیدنا عبد اللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے روایت ہے کہ نبیٔ کریم، رؤفٌ رَّحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کے بعد تمام صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان شدت غم سے نڈھال تھے ،خصوصاً حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی حالت سب سے مختلف تھی اور وہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی وفات کا انکار کررہے تھے۔جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہتشریف لائے توحضرت سیدناعمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہلوگوں سے گفتگو فرمارہے تھے ۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آتے ہی فرمایا: ’’اے عمر! بیٹھ جائو۔‘‘ مگر وہ نہ بیٹھے تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ لوگوں کی طرف متوجہ ہوئےاور نصیحت آموزخطبہ دیتے ہوئےارشادفرمایا :’’فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ مُحَمَّدًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِنَّ مُحَمَّدًا قَدْ مَاتَ وَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ يَعْبُدُ اللَّهَ فَإِنَّ اللّٰهَ حَيٌّ لَا يَمُوتُیعنی تم میں سے جو شخص رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عبادت کرتا تھا تو وہ سن لے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّماس دنیا سے تشریف لے گئے ہیں اور جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت کرتا ہے تو وہ بھی سن لے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ زندہ ہے اسے کبھی موت نہیں آئے گی۔‘‘پھر آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے یہ آیت مبارکہ تلاوت فرمائی: (وَ مَا مُحَمَّدٌ اِلَّا رَسُوْلٌۚ-قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُؕ-اَفَاۡىٕنْ مَّاتَ اَوْ قُتِلَ انْقَلَبْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْؕ-وَ مَنْ یَّنْقَلِبْ عَلٰى عَقِبَیْهِ فَلَنْ یَّضُرَّ اللّٰهَ شَیْــٴًـاؕ-وَ سَیَجْزِی اللّٰهُ الشّٰكِرِیْن(۱۴۴)) (پ۳، آل عمران:۱۴۴) ترجمۂ کنزالایمان : اور محمد تو ایک رسول ہیں ان سے پہلے اور رسول ہو چکے تو کیا اگر وہ انتقال فرمائیں یا شہید ہوں تو تم الٹے پاؤں پھر جاؤ گے اور جو الٹے