رسول اللہ کا وصال ظاہری
حضور نبیٔ اکرم ،نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمجب مسجد نبوی سے حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا کے حجرۂ مبارکہ میں تشریف لے گئے توحضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہمطمئن ہوگئے کہ اب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی طبیعت بہتر ہوگئی ہے اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہاپنے گھر علاقہ ’’سُنْح‘‘میں تشریف لے گئےجو مدینہ منورہ کا نواحی علاقہ کہلاتا تھا۔ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال ظاہری کی خبر شہرمدینہ اور اس کے گردو نواح میں تیزی سے پھیل گئی اور جب حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ خبر پہنچی تو آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فورا اپنے گھر سے مسجد نبوی تشریف لے آئے۔ چنانچہ،
عظیم سانحہ پر صدیق اکبر کاعظیم صبر
اُمُّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے جب دنیاسے پردہ فرمایاتوحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہعلاقہ ’’سُنْحْ ‘‘میںموجوداپنے گھر سے اپنے گھوڑے پر تشریف لائے اور مسجد نبوی میں داخل ہوئے،کسی سے کوئی بھی بات کیے بغیر ہمارے گھر آگئے جہاں دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا جسد مبارک رکھاتھا۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے چہرہ مبارکہ سے چادر ہٹائی ،جھک کر اس کابوسہ لیا اور روتےہوئے ارشاد فرمایا:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرے ماں باپ آپ پر قربان ! اللہ تعالٰیآپ پر دو موتیں جمع نہیں فرمائے گا، بس ایک یہی موت ہے جو آپ کو آچکی۔‘‘ (جامع الاصول فی احادیث الرسول،الباب الثانی فی ذکر الخلفاء الراشدین، الحدیث:۲۰۷۵،ج۴، ص۶۸،صحیح البخاری، کتاب المغازی،مرض النبی و وفاتہ، الحدیث: ۴۴۵۲، ۴۴۵۳، ج۳، ص۱۵۸)