آخری نمازصدیق اکبر کی امامت میں
حضرت سیدناانس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اپنی آخری نماز لوگوں کے ساتھ ایک کپڑے میں لپٹے ہوئے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے پیچھے ادا فرمائی۔ (سنن النسائی،کتاب الامامۃ، باب صلاۃ الامام خلف رجل، الحدیث: ۷۸۲، ص۱۳۷)
مذکورہ احادیث کی شرح
علامہ ملا علی قاری رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہ’’مرقاۃالمفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح‘‘ میں مذکورہ دونوں حدیثوں کو بیان کرنے کے بعد ارشاد فرماتے ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جو نماز بیٹھ کر ادا فرمائی وہ ہفتہ یا اتوار کی نماز ظہر تھی اور اس میں رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمامام تھے۔جبکہ وہ نماز جو ایک کپڑے میں ادا فرمائی وہ پیر کی نماز فجر تھی اور اس نماز کی امامت کے فرائض سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرانجام دیے۔ واضح رہے کہ یہی وہ فجر کی آخری نماز ہے جو آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ادا فرمائی اس کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم وصال فرماگئے۔‘‘
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الصلوۃ، باب ما علی الماموم من المتابعۃ وحکم المسبوق، الفصل الثالث، ج۳، ص۲۲۹)
نبی کی ادا کواداکررہاہوں
حضرت سیدتنااسماء بنت صدیق اکبررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَابیان کرتی ہیں میرے والد(یعنی حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ)ایک ہی کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے ،حالانکہ ان کے دیگر کپڑے بھی رکھے تھے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: ’’بیٹی! رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے میرے پیچھےاپنی آخری نماز ایک ہی کپڑے میں ادا فرمائی تھی(یعنی میں نبی کی اداکوادا کررہاہوں)۔‘‘(مصنف ابن ابی شیبۃ، فی الصلوۃ فی الثوب الواحد، الحدیث: ۳۶، ج۱، ص۳۴۸)