Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
290 - 691
 پڑھاتا۔‘‘میں نے عرض کیا:’’ خدا کی قسم! مجھے رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے کسی خاص آدمی کے لیے حکم نہیں دیا تھا، میں نے توفقط حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی غیر موجودگی میں آپ کو زیادہ حق دار سمجھ کر امامت کرنے کا کہہ دیا۔‘‘
					(مسند امام احمد ،حدیث عبداللہ بن زمعہ،الحدیث:۱۸۹۲۸، ج۶،ص۴۸۶)
صدیق اکبر کا تقرر بحیثیت امام
۹ ربیع الاول جمعہ کی رات کو دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کے مرض الوفات نے شدت اختیار کرلی اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر اس کے باعث تین (۳ ) بار غشی طاری ہوگئی۔ اس وجہ سے نماز عشاء کے لیے تشریف نہ لاسکے اور ارشاد فرمایا:’’مُرُوْا اَبَابَکْرٍ اَنْ یُّصَلِّیَ بِالنَّاسِ یعنی ابوبکر کو حکم دو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں۔‘‘    
								 (سیرت سید الانبیاء، ص۶۰۰)
صدیق اکبر نے کتنی نمازیں پڑھائیں؟
سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے حکم کے مطابق حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جگہ کھڑے ہوکر نماز پڑھائی اور باقی تین دنوں کی نماز پنجگانہ کی امامت بھی آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے ہی کرائی۔اس طرح نبی اکرم نور مجسم شاہ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ظاہری حیات مبارکہ میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سترہ نمازوں کی امامت فرمائی جس کا آغاز جمعہ کی رات کی عشاء کی نماز سے تھا اور آخری نماز ۱۲ ربیع الاول کی فجر کی نماز تھی۔  (سیرت سیدالانبیاء، ص۶۰۱)
رسولاللہ نے بیٹھ کرنماز ادافرمائی
حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ:’’اللہ عَزَّ وَجَلَّکے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےاپنے مرض وفات میں حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے پیچھےبیٹھ کر نماز ادا فرمائی ۔‘‘
(سنن الترمذی،کتاب الصلوۃ،ما جاء اذا صلی الامام۔۔الخ، الحدیث: ۳۶۲، ج۱، ص۳۷۷)