Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
289 - 691
جیسا کہ زلیخا نے مصری عورتوں کو بظاہر دعوت کے لیے بلایا تھا لیکن اس کے دل میں کچھ اور تھا۔(۲)یا یہ مراد ہے کہ جیسے مصر کی عورتیں حضرت یوسف عَلَیْہِ السَّلَام کو ان کی مرضی کے خلاف عمل کرنے کا کہتی تھی، ویسے ہی تم مجھ سے میری مرضی کے خلاف حکم صادر کرانا چاہتی ہو۔(۳) یا یہ مراد ہے کہ تم بھی مصر کی عورتوں کی طرح اپنی بات منوانا چاہتی ہو۔
(نزھۃ القاری،کتاب الاذان، ج۲،ص۳۳۶)
رب اورمومنوں دونوںکو نامنظور
حضرت سیدنا عبداللہبن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے روایت ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مرض الموت نے جب شدت اختیار کی،اس وقت میں مسلمانوں کی ایک جماعت کے ساتھ موجود تھا، حضرت سیدنابلال حبشی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےنماز کے لیے اذان دی تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’جاؤ اور کسی سےنماز پڑھانے کے لیے کہہ دو۔‘‘حضرت سیدنا عبداللہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکہتے ہیں:’’میں باہر آیاتو لوگوں میں حضرت سیدنا عمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہموجود تھے البتہ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہموجودنہ تھے،میں نےحضرت سیدناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہا : اٹھئے اور نماز پڑھائیے۔‘‘ انہوں نے اٹھ کر نماز کی امامت شروع کی اور تکبیر تحریمہ کہی۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی آواز طبعاً زیادہ اونچی تھی،اس لیے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے فوراً سن لی اور سنتے ہی ارشاد فرمایا:’’ابوبکر کہاں ہیں؟(ابوبکر کے علاوہ کوئی اور امامت کروائے) یہ بات نہ اللہکو منظور ہے نہ مومنوں کو۔‘‘چنانچہ آپ صَلَّی اللہُ   تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو بلا یا۔ جب وہ آئے تو نماز پڑھائی جا چکی تھی۔اس کے بعد حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ہی لوگوں کی امامت کروائی۔حضرت سیدناعبداللہبن زمعہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کہتے ہیں مجھ سے حضرت سیدناعمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا: ’’افسوس ہے تم پر! میرے ساتھ تم نے کیا کردیا؟اے عبداللہ! قسم بخدا جب تم نے مجھے نماز کا کہا تو میں سمجھا کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مجھے نماز پڑھانے کا حکم دیا ہے ورنہ میں کبھی نماز نہ