امامت کرنے کا حکم
اُمّ المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاسے روایت ہے کہ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی طبیعت زیادہ ناساز ہوگئی تو حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نماز کی اطلاع دینے بارگاہ رسالت میں حاضر ہوئے، آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا : ’’ابوبکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے کہو کہ نماز پڑھائیں۔‘‘ حضرت سیدتناعائشہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں: ’’میں نے عرض کیا:یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوبکر بڑے رقیق القلب(نرم دل) ہیں آپ کی جگہ کھڑے ہوتے ہی ان پر رقت طاری ہو جائے گی اور لوگوں کوکچھ سنائی نہ دے گا۔بہترہے کہ آپ حضرت سیدنا عمربن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو یہ حکم فرمائیں۔‘‘ آپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے پھر ارشاد فرمایا:’’جاؤ ا بوبکر سے کہو کہ نماز پڑھائیں۔‘‘ حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں’’میں نےحضرت سیدتنا حفصہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا سے کہاکہ آپ بھی بارگاہ رسالت میں یہ گزارش کریں۔‘‘ اُمّ المومنین حضرت سیدتنا حفصہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا نے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خدمت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوبکر بہت نرم دل آدمی ہیں۔ آپ کی جگہ نماز نہیں پڑھا سکیں گے۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: ’’تم بھی یوسف والی عورتیں ہو،جاؤ جاکر ابوبکرسے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘
(سنن الترمذی،کتاب المناقب عن رسول اللہ،باب فی مناقب ابی بکر وعمر،رقم الحدیث:۳۶۹۲، ج۵، ص۳۷۹)
تم بھی یوسف والی عورتیں ہو
سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے اس فرمان ’’تم بھی یوسف والی عورتیں ہو‘‘ کے متعلق حضرت علامہ مفتی شریف الحق امجدی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِیارشاد فرماتے ہیں: (۱)یاتو یہ ہے کہ اے عائشہ وحفصہ! تم دونوں کہہ کچھ رہی ہواور تمہارے دل میں کچھ ہے ،یعنی تم کہہ تو یہ رہی ہو کہ ابوبکر کو امامت کے لیے نہ کہوں کہ یہ نرم دل ہیں اور تمہاے دل میں یہ ہے کہ اگرابوبکر امامت کے لیے مصلے پر کھڑے ہوں گے تولوگ یہ سمجھیں گے کہ شاید رسول اللہ کا انتقال ہو گیا ہے۔