Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
287 - 691
رسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَانسے ارشاد فرمایا:’’میں نے تم لوگوں کو تصفیقمیں مبالغہ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔یاد رکھو!جب نماز میں اس طرح کا کوئی معاملہ پیش آجائےتو تسبیح یعنی سبحان اللہکہو کیوں کہ جب تسبیح کہی جائے گی تو امام اس کی طرف متوجہ ہو جائے گا اورتصفیق محض عورتوں کے لئے ہے۔‘‘
(صحیح البخاری،کتا ب الاذان، من دخل لیؤم الناس فجاء الامام الاول فتاخرالاول، الحدیث: ۶۸۴، ج۱، ص۲۴۴ملتقطا)
سرکار کی غیر موجودگی میں امامت
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا    فرماتی ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  انصار کے ایک قبیلہ میں صلح کےلئے تشریف لے گئے۔ جب نماز کا وقت آیا تو حضرت سیدنا بلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے عرض کیا: ’’نماز کا وقت ہوچکا ہے، اوررسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  موجودنہیں ہیں۔میں اذان و اقامت کہتا ہوں کیا آپ نماز پڑھائیں گے؟‘‘فرمایا: ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی۔‘‘ توحضرت سیدنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اذان دے دی۔ پھراقامت کہی اورحضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے آگے بڑھ کر نماز پڑھادی۔جب نمازسے فارغ ہوئے تو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتشریف لے آئے۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: ’’کیا آپ لوگ نمازاداکر چکے ہیں؟‘‘عرض کی گئی:’’جی ہاں یارسول اللہ‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:’’نماز کس نے پڑھائی؟‘‘عرض کی گئی: ’’حضرت ابوبکرصدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ۔‘‘ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا:’’اَحْسَنْتُمْ لَا يَنْبَغِيْ لِقَوْمٍ فِيْهِمْ اَبُوْ بَكْرٍ اَنْ يَّؤُمَّهُمْ اَحَدٌغَيْرَهُیعنی تم نے بہت اچھا کیا کیونکہ جس قوم میں ابوبکر ہوں ان میں ابوبکر کے سوا کسی اور کو امام بنانا جائز نہیں۔‘‘  (اتحاف الخیرۃ المھرۃ،کتاب المناقب، باب فضائل ابی بکر الصدیق، الحدیث:۸۸۱۲،  ج۹، ص۲۰۰، سنن الترمذی، کتاب المناقب عن رسول اللہ، فی مناقب ابی بکر وعمر، الحدیث:۳۶۹۳، ج۵، ص۳۷۹)