Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
286 - 691
سرکار کی موجودگی میں امامت
حضرت سیدناسہل بن سعد رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمقبیلہ بنی عمرو بن عوف کے مابین صلح کرانے تشریف لے گئے ، جب نماز کا وقت قریب آیا تو حضرت سیدنابلال رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بارگاہ میں حاضر ہوکر عرض کی:’’ کیا آپ لوگوں کو نماز پڑھائیں گے ؟‘‘ حضرت سیدناابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا:’’جی ہاں۔‘‘چناچہ اقامت کہی گئی توحضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نمازپڑھانے لگے۔ابھی نماز ادا کرہی رہےتھے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لے آئے اورصف میں شامل ہو گئے۔ لوگوں نے تصفیقکی(یعنی بائیں ہاتھ کی پشت پر دائیں ہاتھ کی ہتھیلی مارکر آواز پیدا کی) تاکہ حضرت سیدناابو بکررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی آمد کی اطلاع ہو جائے۔ لیکن حضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ اتنے خشوع وخضوع سے نماز اداکیا کرتے تھے کہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنے آس پاس کی خبر ہی نہ ہوتی تھی۔لہٰذا لوگوں نےتصفیقمیں مبالغہ کیا تو حضرت سیدنا ابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے ان کی طرف توجہ کی اورکیا دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمصف میں موجود ہیں۔تاجدارِ رِسالت، شہنشاہِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کو اپنی جگہ کھڑے رہنے کا اشارہ کیا، لیکن آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہآہستہ آہستہ پیچھے آکرصف میں کھڑے ہو گئےاور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے آگے بڑھ کر لوگوں کو بقیہ نماز پڑھائی۔نماز مکمل کرنے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدناابو بکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسے ارشاد فرمایا:’’اے ابوبکر !جب میں نے تمہیں پیچھے ہٹنے سے منع کیا تھا توپھرتمہیں کس چیز نے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا؟‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے عرض کی:’’یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! ابوقحافہ کے بیٹے کو کیسے یہ جرأت ہوسکتی ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول کی موجودگی میں لوگوں کو نماز پڑھائے۔‘‘