امامت وخلافت کا بیان
دعوت اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ ۱۲۵۰صفحات پر مشتمل کتاب ’’بہار شریعت ‘‘جلداول، صفحہ ۲۳۷پر صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی امامت کی دو قسمیں بیان کرتے ہوئےفرماتے ہیں:’’ امامت دو (۲ )قسم ہے: (۱) صغریٰ۔(۲) کبریٰ امامت صغریٰ امامت نماز ہے۔ امامت کبریٰ نبی صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی نیابت مطلقہ، کہ حضور( صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم)کی نیابت سے مسلمانوں کے تمام اُمورِ دینی ودنیوی میں حسبِ شرع تصرّفِ عام کا اختیار رکھے اور غیرِ معصیت میں اُس کی اطاعت، تمام جہان کے مسلمانوں پر فرض ہو۔اِس امام کے لیے مسلمان، آزاد، عاقل، بالغ، قادر، قرشی ہونا شرط ہے۔ ہاشمی، علوی، معصوم ہونا اس کی شرط نہیں۔‘‘حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکودونوں امامتوں کی سعادتیں حاصل ہیں اورامامت صغری یعنی نماز کی امامت تو پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی حیات مبارکہ ہی میں آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو سونپ دی گئی تھی اور خود سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ کو امام بنانے کا حکم ارشاد فرمایا نیز آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی موجودگی وغیر موجودگی دونوں صورتوں میں امامت کے فرائض سرانجام دیئےاور سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ہوتے ہوئے کسی دوسرے کو امام بنانے کی ممانعت خود ارشادفرمائی۔ چنانچہ،
اِمامتِ صغریٰ
کسی اورکو امامت کا حق نہیں
اُمّ المومنین حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا فرماتی ہیں کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’جس قوم میں ابوبکرصدیق ہوں وہاں کسی اور کو امامت کا حق نہیں ۔‘‘
(سنن الترمذی،کتاب المناقب،باب فی مناقب ابی بکروعمررضی اللہ عنھما ، الحدیث ۳۶۹۳، ج۵، ص۳۷۹)