Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
281 - 691
شہزادۂ صدیق اکبر کی ولادت
اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ذوالحلیفہ میں تھے۔ حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکی اہلیہ محترمہ حضرت سیدتنا اسماء بنت عمیس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَاامید سے تھیں، ان کے ہاں شہزادۂ صدیق اکبر حضرت سیدنا محمد بن ابی بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی ولادت ہوگئی۔  (سیرت سید الانبیاء، ص۵۶۳)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
جیش اُسامہ بن زیدکی تیاری وروانگی
فریضہ حج ادا کرنے کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممدینہ منورہ تشریف لے گئے چند روز بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ملک شام پرحملہ کرنے کے لیے فوج تیار کرنے کا حکم دیا اور اس فوج کا سربراہ حضرت سیدنا اسامہ بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو مقررفرمایا اور اس میں حضرت سیدنا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہجیسے جلیل القد ر صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان  موجود تھے۔ یہ لشکر مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر ابھی قریب کے ایک مقام جرف تک پہنچا تھا کہ انہیں دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی علالت کی اطلاع ملی یہ اطلاع سن کرلشکر جرف ہی میں رک گیا۔   (الروض الانف، باب بعث اسامۃ، ج۴، ص۳۸۵)
جیش اسامہ بن زید کا پس منظر
جنگ موتہ اور غزوۂ تبوک کے بعد اسلام اور عیسائیت کے درمیان بڑھنے والے اختلافات اور یہودی فتنہ انگیزی کے باعث رومی اور شامی فوج کے عرب پر حملہ آور ہونے کے خطرات کافی حد تک بڑھ گئے تھے۔جنگ موتہ میں مسلمانوں کے تین قائد حضرت سیدنا زید بن حارثہ ، حضرت سیدنا جعفر بن ابو طالب اور حضرت سیدنا عبداللہ بن رواحہ