Brailvi Books

فیضانِ صدیق اکبر
282 - 691
رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُم  جام شہادت نوش فرما چکے تھےاور جنگی صورت حال مسلمانوں کے خلاف ہوچکی تھی لیکن حضرت سیدنا خالد بن ولید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے اپنی حکمت عملی سے اپنی فوج کو باحفاظت محفوظ مقام پر پہنچادیا تھا۔اس کے بعد سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم خود مسلمانوں کی فوج کے ساتھ مقام تبوک کی طرف روانہ ہوئے لیکن رومیوں کو لڑنے کی جرأت نہ ہوئی اور وہ اپنی جان بچا کر واپس شام کے علاقے میں چلے گئے۔اس کے بعد رومیوں نے مسلمانوں کے خلاف سخت رویہ اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا تھا اور وہ سوچنے لگے تھے کہ عرب کی سرحدوں کی طرف پیش قدمی کی جائے اور ان کی اس پیش قدمی کو روکنے اور رومیوں کے علاقے شام پر حملہ کرنے کے لیے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے لشکر اسامہ کی تیاری کا حکم جاری فرمایا۔ اگر مسلمانوں پر رومی حملہ کرتے تو مسلمان فوج اپنا دفاع کرتی لیکن دفاع ہمیشہ کمزور اور حملہ مضبوط ہوتاہے لہٰذا سرکار صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے حملے کو ترجیح دی۔یہ لشکر مدینہ منورہ سے روانہ ہوکر ابھی قریب کے ایک مقام جرف تک پہنچا تھا کہ انہیں دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی علالت کی اطلاع ملی یہ اطلاع سن کرلشکر جرف ہی میں رک گیا۔ دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  کی علالت اتنی شدید ہوگئی کہ آخری ایام میں آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکو نمازوں کی امامت کا حکم ارشاد فرمادیا۔چنانچہ سیدنا صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی مسلمانوں کی امامت کرواتے رہےاور کیوں نہ ہوکہ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ہی کو امامت صغری وامامت کبریٰ دونوں کا استحقاق حاصل ہے۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد