پہنچادیے۔(۴) حجۃالتمام والکمال اس لیے کہتے ہیں کہ اس حج میں وقوف عرفہ کے دن پارہ ۶سورۃ المائدہ کی آیت نمبر۲ نازل ہوئی: (اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًاؕ) ترجمۂ کنزالایمان:’’آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا۔‘‘واضح رہے کہ ہجرت سے پہلے مکی دور میں دو عالم کے مالِک و مختار، مکی مَدَنی سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہر سال حج فرمایا کرتے تھے، لیکن ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں حج کی فرضیت کے بعد آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے صرف یہی حج فرمایا۔
(سیرت سید الانبیاء، ص۵۶۱، السیرۃ الحلبیۃ، ج۳، ص۳۶۰)
حجۃ الوداع میں صحابۂ کرام کی تعداد
شہنشاہِ مدینہ، قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے چونکہ اپنے اس حج کی اطلاع اطراف کے تمام علاقوں میں بھیج دی تھی اس لیے لوگ ہر طرف سے آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ساتھ حج کرنے کے لیے امڈ آئے۔ علامہ ابن جوزی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں کہ :’’اس دن حجاج کرام کی تعداد حساب اور گنتی سے باہر تھی۔‘‘علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی ارشاد فرماتے ہیں:’’اس حج میں آگے پیچھے دائیں بائیں جدھر نگاہ اٹھتی سوار اور پیدل ہی دکھائی دیتے تھے اس سفر میں اتنے آدمی جمع تھے کہ ان کی تعداد اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے سوا کسی کو معلوم نہیں ۔ البتہ ایک روایت کی رو سے ان کی تعداد ایک لاکھ چودہ ہزار اور دوسری روایت کے مطابق ایک لاکھ چوبیس ہزار صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان اس سفر میں نبیٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے ہمراہ تھے۔ ‘‘بعض دیگر روایات کے مطابق ایک لاکھ تیس ہزار تھی، یہ تعداد ان صحابۂ کرام کے علاوہ تھی جو مکہ مکرمہ میں موجود تھے اور یمن سے حضرت سیدنا علی المرتضی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْماور حضرت سیدنا ابوموسی اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہکے ساتھ آئے تھے۔(سیرت سید الانبیاء، ص۵۶۲، بحوالہ شرح سفر السعادت، ص۳۲۷)